تہران( نیوز ڈیسک)ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف، جنہوں نے 2015کے جوہری مذاکرات میں اپنے ملک کے وفد کی قیادت کی، نے اتوار کے روز مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی ناکامی کا الزام اپنی شرائط کو "ڈکٹیٹ" کرنے کی امریکی کوششوں پر لگایا، انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی مذاکرات کم از کم ہماری یاآپ کی شرائط کی بنیاد پر کامیاب نہیں ہوں گے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے ایک بیان میں ایران کے سابق وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے سوال اٹھایا کہ جاننا چاہتے ہیں مذاکرات کیوں کامیاب نہیں ہوئے،انہوں نے امریکی نائب صدر کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ انہوں نے ہماری شرائط قبول نہیں کیں۔ظریف نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بالکل درست، کوئی بھی مذاکرات کم از کم ایران کے ساتھ ہماری یا تمہاری شرائط پر کامیاب نہیں ہو سکتے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو یہ سیکھنا ہوگا کہ وہ ایران پر اپنی شرائط مسلط نہیں کرسکتا، ابھی بھی سیکھنے کا وقت ہے۔امریکی وفد کی قیادت کرنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ بات چیت تقریباً 21 گھنٹے جاری رہی اور ایران نے ہماری شرائط قبول نہ کرنے کا انتخاب کیا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں فریقین نے کچھ نکات پر اتفاق کیا ہے لیکن دو یا تین اہم مسائل پر اختلافات برقرار ہیں۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا دونوں فریق دوبارہ رابطے شروع کریں گے،اور مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جنگ بندی کا کیا ہو گا۔