تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) مشرق وسطیٰ کی جنگ شروع ہونے کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقرقالیباف اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور نائب وزیر اعظم شیخ منصور بن زاید النہیان کاپہلا اعلیٰ سطح ٹیلی فونک رابطہ ‘علاقائی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیاگیاجبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیاہے کہ آنے والے دودن حیران کن ہوں گے ‘جنگ ختم ہونے کے قریب ہے‘ واشنگٹن تہران کے ساتھ بہترین معاہدہ کرسکتا ہے ‘ چینی صدرشی جن پنگ نے ایران کو ہتھیار نہ بیچنے کا وعدہ کیاہے ‘آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی ہے اور بحری جہاز اس راستے سے گزرنا شروع ہو گئے ہیں ‘ ابھی ہماراکام ختم نہیں ہواجبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ کوئی چھوٹی ڈیل نہیں بلکہ بہت بڑااور جامع معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ‘ ایران اپنا جوہری پروگرام ترک کر دے تو امریکا اس کی ترقی اور خوشحالی میں مدد کر سکتا ہے۔دوسری جانب ایران کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہی تو خلیج، بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں بھی جہازرانی کو بندکردیں گے ‘ ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے کہاہے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر ہتھیار بھی نہیں ڈالیں گےجبکہ ترکیہ کے صدررجب طیب اردوان کاکہنا ہے کہ انقرہ جنگ بندی میں توسیع‘ تناؤ میں کمی اور مذاکرات کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے‘رکاوٹوں کے باوجود مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہیں‘چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت میں کہا ہے کہ تہران کی خود مختاری‘ سلامتی اور جائز حقوق و مفادات کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیےجبکہ جہاز رانی کی آزادی اور سیکورٹی کی ضمانت بھی دی جانی چاہیے۔