انصار عباسی
اسلام آباد :…خیبر پختونخوا حکومت نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے حوالے سے وفاقی حکومت کے طرزِ عمل پر اپنی تنقید میں شدت پیدا کر دی ہے، قانونی کارروائی کی وارننگ دیتے ہوئے اور ان مالیاتی انتظامات کی اصلاح کیلئے فوری آئینی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جنہیں صوبائی حکومت ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ارسال کیے گئے ایک سخت لہجے پر مبنی خط میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے سنگین آئینی خدشات کو اجاگر کیا، خاص طور پر این ایف سی کے عمل میں نظامی خلاف ورزیوں اور محصولات کی تقسیم کے فارمولے کی بروقت تجدید میں تاخیر پر توجہ مرکوز کی۔ خط میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ہر 5؍ سال بعد این ایف سی ایوارڈ پر نظرِ ثانی کرنے کی آئینی شرط کو عملاً نظر انداز کیا گیا ہے، اور موجودہ انتظام اپنی آئینی مدت سے کہیں زیادہ طویل ہو چکا ہے۔ خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر توسیعات صوبوں کے آئینی اتفاقِ رائے کے بغیر دی گئیں، جس سے وفاقیت کی روح متاثر ہوئی۔ 2015ء میں آرٹیکل 160(6) کے تحت کیے گئے فارمولہ کی نظرِ ثانی کے برعکس، فاٹا کے حصے کیلئے اسی طریقہ کار کو بروئے کار نہ لانے کو مسلسل نظر انداز کرنا قرار دیا گیا ہے۔ مزید برآں صوبے کا موقف ہے کہ ’’غیر قانونی اقدامات کے ایک پیچیدہ مجموعے‘‘ نے واضح آئینی طریقہ کار کی جگہ لے لی ہے، جس سے موجودہ مالیاتی منتقلیاں مشکوک ہو گئی ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2018ء کے بعد سے نام نہاد صوبائی ’’حصہ جات‘‘ قانونی حیثیت نہیں رکھتے، درحقیقت یہ حصہ جات نہیں اور انہیں جائز تقسیم نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ اس معاملے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے خیبر پختونخوا نے خبردار کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنے کیلئے تیار ہے۔ صوبہ متعدد نکات پر عدالتی مداخلت چاہتا ہے، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ پانچ سال بعد این ایف سی افقی فارمولے کی تجدید میں تاخیر کیا آئینی مدت کی خلاف ورزی ہے، اور وفاقی حکومت کو آرٹیکل 160(6) کے تحت نیا ترمیمی حکم جاری کرنے، آئین کے مطابق فارمولے کو اپ ڈیٹ کرنے اور فاٹا کے حصے کو مغربی سرحد پر امن و حکمرانی کے استحکام کیلئے قومی ترجیح کے طور پر مختص کرنے کا پابند بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی 2018ء سے محصولات کی تقسیم کی قانونی حیثیت کو بھی چیلنج کرنے اور سابق فاٹا کے حصے سے مبینہ طور پر منتقل کیے گئے فنڈز کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اپنے مجوزہ ’’آگے کے لائحہ عمل‘‘ کے تحت خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ این ایف سی کے عمل کو آئینی حدود میں واپس لایا جا سکے۔ اس نے فاٹا کے انضمام کے بعد کی صورتحال کے مطابق صوبائی حصہ جات کی تجدید کیلئے تاخیر کا شکار ترمیمی حکم جاری کرنے پر زور دیا۔ اس دوران صوبے نے عبوری مالیاتی انتظامات کیلئے تمام صوبوں کو منصفانہ وفاقی گرانٹس دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ مزید برآں اس نے بغیر کسی تاخیر کے این ایف سی اجلاس بلانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نئے ایوارڈ پر باضابطہ غور و خوض دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ یہ خط وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مالیاتی حقوق کے معاملے پر بڑھتی خلیج کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں صوبہ اس مسئلے کو محض مالیاتی نہیں بلکہ ایک بنیادی آئینی تنازع قرار دے رہا ہے جو جلد ملک کی اعلیٰ عدالت کے سامنے پیش ہو سکتا ہے۔