سکھر (بیورو رپورٹ) زمین لرزی، نہ آسمان گرا، جواں سالہ عورت کارو کاری کے الزام اور پسند کی شادی کرنے پر ماموں نے غیرت کے نام پر جرگے میں بھانجی کو سفاکانہ انداز میں گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا، سفاک قاتل نے یکے بعددیگرے تین گولیاں سینے میں اتار دیں، پسند کی شادی پر جرگے میں والدین سے سوا یکڑ زمین اور 20لاکھ مانگے، انکار پر ملزم نے فائرنگ کردی،لڑکی تڑپ کر جاں بحق ہوگئی، بے حس لوگ ویڈیو بناتے رہے، نانا سمیت 18ملزمان گرفتار کر لیا گیا، وڈیروں کے دباؤ باعث پولس نے مقدمہ میں جرگہ کا ذکر نہیں کیا ، لڑکی کی والدین کا کہنا ہے کہ کراچی گئے تھے، ہمارے پیچھے لڑکا بیٹی کو لے گیا، عزت سے کھیلا، مقدمہ ہمارے خلاف بنا ہمارے گھر گرائے گئے۔تفصیلات کے مطابق زمین لرزی، نہ آسمان گرا، جواں سالہ عورت سیاہ کاری کی فرسودہ رسم کی بھینٹ چڑھ گئی، پسند کی شادی کرنے پر ماموں نے غیرت کے نام پر بھانجی کو سفاکانہ انداز میں گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا، لڑکی کا نانا بھی ملوث، قتل کی ویڈیو وائرل، یکے بعد دیگرے تین گولیاں ماری گئیں، 22سالہ خالدہ نے تڑپ تڑپ کر جان بحق ہوگئی۔ انتہا درجے کی سفاکیت نے لوگوں کو دہلاکر رکھ دیا ہے۔ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل ہی لڑکی نے پسند کی شادی کی، بااثر لوگوں کے دباؤ پر لڑکی کو واپس بلایا گیا، بااثر افراد کی سرپنجی میں جرگہ ہوا، جس میں لڑکی والوں سے سوا ایک ایکڑ زمین اور 20لاکھ روپے نقدی کا تقاضا کیا گیا، نقد رقم نہ دینے پر رات کی تاریکی میں خالدہ زوجہ راشد دختر محمد رمضان کو بے رحمی و سفاکی کے ساتھ گولیاں مار کر قتل کیا گیا، ویڈیو بھی بنائی گئی، واقعہ 10اپریل کو پیش آیا، خاتون کو صدام نامی شخص کے ساتھ کارو کاری کے جھوٹے الزام میں قتل کیا گیا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس متحرک ہوئی، 18ملزمان کیخلاف سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا۔ قتل میں ملوث ماموں، نانا، 5نامزد ملزمان سمیت 18افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، آلہ قتل بھی برآمد کیا گیا ہے۔ ایس ایس پی خیرپور کا کہنا ہے کہ ملوث 18ملزمان کو گرفتار کیا ہے، مزید گرفتاریوں کے لئے چھاپے مار رہے ہیں، ملزمان کے گھروں کو بھی مسمار کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب سفاکانہ و بہیمانہ انداز میں سیاہ کاری کے الزام میں خاتون کے قتل سے خیرپور سمیت چھوٹے و بڑے شہروں میں خوف و ہراس کی فضاء پھیل گئی ہے، لوگ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ دوسری جانب سیاہ کاری کے الزام میں ماری گئی مقتولہ لڑکی خالدہ کے والد رمضان نے میڈیا سے بات چیت میں بتایا ہے کہ ہم مزدوری کرنے کراچی گئے تھے، پیچھے سے صدام نامی لڑکا میری بیٹی کو لے گیا، واپس آکر میں نے معلومات حاصل کی، صدام کے گھر گیا، وہاں نہیں ملی، پتہ چلا کہ بیٹی کو اس کے ماموں کے پاس لے گئے، لڑکا صدام گم ہوگیا، پھر ہماری بیٹی کو قتل کردیا، ہم خود فریادی بننا چاہتے تھے مگر پولیس آگئی اور انہوں نے ہمارے رشتہ داروں کو گرفتار کیا اور کہا کہ ہم خود مقدمہ درج کریں گے۔ والد نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اڑھائی لاکھ روپے رشوت لی اور دوسرے فریق کے کہنے پر ہمارے گھر گرائے گئے، ایف آئی آر بھی ہمارے خلاف درج ہوئی۔ دریں اثناء سیاہ کاری کے الزام میں جواں سالہ لڑکی کو بے رحمی و سفاکیت کے ساتھ سینے میں گولیاں مارکر قتل کردیا گیا۔ وائرل ویڈیو میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ دو افراد نے خاتون کو پکڑ کر رکھا، ایک ملزم نے گولیاں چلائی، ایک گولی لگنے پر خاتون تڑپ کر زمین پر جاگری، چند ساعت تک خاتون تڑپتی رہی، جس پر دوسری اور پھر تیسری گولی ماری گئی۔ دریں اثناء جواں سالہ خاتون کوسیاہ کاری کے الزام میں قتل کا مقدمہ تھانہ ٹنڈو مستی میں سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ پی پی سی 302-311-114 کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ قیصر، پہلوان، غلام عباس، عرف باجو، ولی محمد سمیت 18ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ کے متن کے مطابق اطلاع ملی تھی کہ خالدہ کو صدام کے ساتھ کاری کرکے قتل کیا جارہا ہے، پولیس روانہ ہوئی، رات کی تاریکی تھی، البتہ موبائل کی روشنی میں دیکھا گیا کہ چار افراد نے ایک عورت کو گھیر رکھا ہے، تین کے ہاتھ میں پستول تھے۔ متن میں یہ بھی درج ہے کہ قیصر، پہلوان، غلام عباس عرف باجو نے خالدہ پر سیدھے فائر کئے اور سینے پر یکے بعد دیگرے تین گولیاں ماریں، جائے وقوعہ سے گولیوں کے تین خول بھی برآمد ہوئے ہیں۔