• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد بن یاسین

آج کا نوجوان صرف ایک فرد نہیں بلکہ اپنے عہد کا نمائندہ ہے، جو یا تو قوموں کو بامِ عروج تک پہنچا دیتا ہے یا پستی میں دھکیل دیتا ہے۔ اس وقت وہ کئی محاذوں پر بیک وقت لڑ رہا ہے، صرف حالات سے خود سے بھی لڑ رہا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں، خوف، خواہشات اور ذمہ داریوں کے بیچ معلق ہے۔ تعلیم کا میدان، بے روزگاری، سوشل میڈیا کا دباؤ، خاندانی توقعات، معاشی مشکلات ذہنی دباؤ ، نظریاتی کشمکش اور سب سے خطرناک عدم رہنمائی کے محاذ نے اسےذہنی اذیت سے دوچار کر دیا ہے۔

وہ ایک ایسے دور میں جی رہا ہے جہاں مقابلہ سخت، وسائل محدود اور توقعات آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ہر طرف ’’آگے بڑھو‘‘کی آواز ہے، مگر ’’یسے بڑھو؟‘‘یہ اسےکوئی نہیں بتاتا۔ اس سے کہا جاتاہے کہ کامیاب بنو، مگر یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ناکامی کو کیسے برداشت کرنا ہے۔

سب سے پہلا محاذ تعلیم کا ہے۔ بچپن سے اسے بتایا جاتا ہے کہ ڈگری ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ وہ اسکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی تک دوڑتا ہے، ڈگریاں حاصل کرتا ہے، کورسز کرتا ہے، سرٹیفکیٹس جمع کرتا ہے،مگر جب عملی زندگی کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ڈگری کافی نہیں، تجربہ بھی چاہیے، سفارش بھی چاہیے، یہی وہ مقام ہے جہاں اس کی امید اور حقیقت کا ٹکراؤ ہوتا ہے، یوں اس کی آدھی زندگی تعلیم میں گزرتی ہے اور باقی نوکری کی تلاش میں۔ وہ فارم بھرتا ہے، ایک ادارے سے دوسرے ادارے تک کے چکر لگاتے لگاتے گھن چکر بن جاتا ہے انٹرویوز دیتا ہے، انتظار کرتا ہے اور ہر بار ایک نئی امید کے ساتھ خود کو سنبھالتا ہے لیکن حاصل وصول کچھ نہیں ہوتا

دوسرا محاذ معاشی دباؤ کا ہے، خاص طور پر شہروں میں رہنے والے نوجوان مہنگائی، کرایوں اور روزمرہ اخراجات کے بوجھ کو محسوس کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنے خوابوں کا بوجھ نہیں اٹھا رہےبلکہ اپنے خاندان کی امیدوں کا سہارا بننے کی تگ میں خود بے سہارا ہو رہے ہیں۔ کئی نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ جزوقتی ملازمت بھی کرتے ہیں، تاکہ گھر کے خرچے میں ہاتھ بٹا سکیں۔ یہ ذمہ داریاں ان کی عمر سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔

آج نوجوان کے ہاتھ میں ہتھیار نہیں، موبائل ہے ۔فیک نیوز پہلے نوجوان کو غصہ دلاتی ہیں، پھر کنفیوز کرتیں، با لاآخرکار وطن سے دوراورنظریے سے بدظن کردیتی ہیں۔ تیسرا محاذ سوشل میڈیا کا ہے۔ جعلی پروپیگنڈا پھیلا کر، کبھی ثقافت کی آڑ میں بے راہ روی کو فیشن بنا کر، اور کبھی آزادی اظہار کے نام پر مادر پدر آزادی کی ترویج کر کے دشمن ہماری نوجوان نسل کو اندر سے کھوکھلا کرنے میں لگا ہواہے۔ جس نے نوجوانوں کی دنیا بدل دی ہے۔

وہ اپنی تو تصویر ایڈٹ کر لیتا ہے، مگر اپنے احساسات کو ایڈٹ نہیں کر پاتا۔ وہ اپنی پروفائل کو سجا لیتا ہے، مگر اپنے باطن کو سنوارنے کا وقت نہیں نکال پاتا۔ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوانوں کی تخلیقی اور تعمیری صلاحیتوں کو بتدریج ختم کررہا ہے۔ اور چوتھا محاذ خاندانی اور سماجی توقعات کا ہے۔

والدین چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر، انجینئر یا سرکاری افسر بنے لیکن بیٹے کے اپنے خواب بھی ہوتے ہیں، کوئی لکھاری بننا چاہتا ہے، کوئی آرٹسٹ،تو کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے۔ جب اس کے خواب اور معاشرے کی توقعات آپس میں ٹکراتی ہیں تو اس کے اندر ایک کشمکش جنم لیتی ہے۔ وہ بظاہر خاموش رہتا ہے مگر اندر سے ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔

پانچواں محاذ ذہنی صحت کا ہے۔ مقابلے کی دوڑ، ناکامی کا خوف، موازنہ کرنے کی عادت اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال نوجوان کو ذہنی دباؤ کا شکار بنا رہی ہے۔ وہ دوسروں کو دیکھ کرمسکراتا ہے مگر اندر سے بے چین ہوتا ہے۔ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ کمزور نظر آیا تو لوگ اسے ناکام سمجھیں گے۔

اس لیے وہ اپنے دکھوں کو چھپانا سیکھ لیتا ہے، حالانکہ اسے ضرورت ہوتی ہے ایک ایسے ماحول کی جہاں وہ کھل کر بات کر سکے، اپنی الجھنیں بیان کر سکے ،تاکہ کوئی ان کا حل بتا سکے۔

چھٹا محاذ اخلاقی اور نظریاتی انتشار کا ہے۔ آج کا نوجوان مختلف نظریات، ثقافتوں اور رجحانات کے بیچ کھڑا ہے۔ ایک طرف روایت ہے، دوسری طرف جدیدیت۔ ایک طرف سادگی ہے، دوسری طرف دکھاوا۔ 

وہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کس راستے کو اپنائے۔ اگر وہ روایت سے جڑا رہے تو اسےدقیانوسی کہا جائے گااور اگر جدت کی طرف راغب ہو تو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کشمکش میں اس کی شخصیت تقسیم ہو جاتی ہے۔

اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھیں۔آج کا نوجوان ٹیکنالوجی سیکھ رہا ہے، نئے ہنرآزما رہا ہے، آن لائن کام کر رہا ہے، فری لانسنگ کر رہا ہے، چھوٹے کاروبار شروع کر رہا ہے۔ وہ خود کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اگر اسے درست سمت مل جائے تو معاشرے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ وہ خاموش سپاہی ہے جو اپنے خوابوں، اپنی عزتِ نفس اور اپنے مستقبل کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔

اسے کمزور سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ ذرا سوچیے، اگر ہم نے 22 کروڑ کی آبادی میں سے صرف 60 فیصد نوجوانوں کو صحیح سمت دے دی، تو پاکستان نہ صرف دفاعی طاقت بنے گا، بلکہ سائنسی، معاشی، اور فکری میدان میں بھی دنیا کو حیران کر دے گا۔ لیکن اگر یہی نوجوان سستی، مایوسی، اور تشدد کے جال میں پھنستا گیا، تو انجام کیاہوگا ۔

یہ وقت ہے نوجوانوں سمجھانے کا کہ، اُس کا محاذ صرف سرحد نہیں، بلکہ دماغ بھی ہے۔ اُسے صرف جسمانی نہیں، نظریاتی دفاع کا مورچہ بھی سنبھالنا ہے، کیونکہ جب نوجوان بیدار ہوتا ہے، تو انقلاب آتے ہیں، اور جب بھٹکتے ہیں، تو سلطنتیں مٹ جاتی ہیں۔ اس لیے ان نوجوانوں کی اخلاقی، علمی، مذہبی، فکری آبیاری انتہائی لازمی عنصر ہے۔ اگر ہم نوجوان نسل کو فکری انتشار اور اخلاقی بے راہ روی سے محفوظ نہ رکھ سکے تو پورے معاشرے کا مستقبل تاریک ہوجائے گا۔