• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر دور کی اپنی ایک شناخت ہوتی ہے، اپنے سوالات اور اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ ماضی کے ادوار میں انسان کی پہچان اس کے علم، کردار، شرافت، خاندانی اقدار اور سماجی خدمت سے جانی جاتی تھی۔ نوجوان نسل کے خواب سادہ مگر بامقصد ہوتے تھے۔

کوئی استاد بننا چاہتا تھا، کوئی عالم، کوئی محقق، کوئی اچھا تاجر اور کوئی ایسا انسان جو اپنے خاندان، معاشرے اور ملک کے لیے باعثِ فخر ہو، مگر آج کا دور، جسے ڈیجیٹل اور جدید دور کہا جاتا ہے، ایک ایسے شدید بحران سے گزر رہا ہے جہاں انسان کی قدر و قیمت اس کے اخلاق، علم اور کردار سے نہیں بلکہ اس کے بینک بیلنس، گاڑی، موبائل فون اور طرزِ زندگی سے ناپی جا رہی ہے۔

آج کی نئی نسل کی سب سے بڑی ترجیح پیسہ ہے۔ یہ نسل یہ سوال نہیں کرتی کہ میں کیا بنوں، بلکہ یہ پوچھتی ہے کہ کہاں سے زیادہ پیسہ ملے گا۔ یہ فکر اب صرف روزگار تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلیم، تربیت، رشتوں، اقدار، حتیٰ کہ عبادات تک کو اس نے متاثر کیا ہے۔ پیسہ کمانا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں، بلکہ یہ زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، مگر جب پیسہ مقصد بن جائے اور باقی سب کچھ اس مقصد پر قربان ہونے لگے تو یہی پیسہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔

یہی وہ جنگ ہے جو آج کی نئی نسل لڑ رہی ہے، ایک ایسی جنگ جس میں بظاہر کامیابی نظر آتی ہے مگرہے شکست۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئی نسل کی یہ ذہنیت کسی ایک ملک یا معاشرے تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) نے کامیابی کا واحد معیار دولت کو بنا دیا ہے۔ مغربی معاشرے میں برسوں پہلے یہ تصور پروان چڑھا کہ انسان کی قدر اس کی آمدن سے طے ہوتی ہے، اور اب یہ تصور ترقی پذیر معاشروں میں بھی جڑ پکڑ چکا ہے۔

نوجوانوں کے سامنے کامیاب وہی ہے جس کے پاس بڑا گھر، مہنگی گاڑی اور پرتعیش زندگی ہو، چاہے اس کامیابی کی قیمت ذہنی سکون، خاندانی رشتے اور اخلاقی اقدار ہی کیوں نہ ہوں۔ اس نظام نے نئی نسل کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی ہے کہ اگر تم امیر نہیں تو ناکام ہو۔ 

یہی سوچ نوجوانوں کو مسلسل بےچینی اور احساسِ کمتری میں مبتلا کر رہی ہے۔ آج کے نوجوان اپنا موازنہ کو دوسروں سے کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر چمکتی دمکتی لائف اسٹائل کو دیکھ کر اپنی حقیقت سے بیزار ہوتے جارہے ہیں۔

اسی نے پیسے کی دوڑ کو کئی گنا تیز کر دیا ہے۔ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، یوٹیوب جیسے متعدد پلیٹ فارم پر دکھائی جانے والی زندگی دراصل حقیقت نہیں بلکہ ایک اسکرپٹڈ کنٹینٹ ہوتے ہیں، مگر نئی نسل اسے سچ مان بیٹھی ہے۔ یہاں ہر شخص خود کو کامیاب، خوشحال اور مطمئن دکھاتا ہے۔

مہنگے کیفے، بیرونِ ملک سفر، قیمتی گاڑیاں اور لگژری لائف اسٹائل ان کے ذہنوں میں یہ خیال پیدا کرتے ہیں کہ کامیابی بس اسی کا نام ہے۔ وہ سالوں کی محنت، صبر اور جدوجہد سے گھبرانے لگے ہیں اور فوری دولت کے خواب دیکھتے ہیں۔ موجودہ سائبر کرائم کی دنیا جیسا کہ آن لائن اسکیمنگ، جعلی کاروبار، فراڈ، غیر اخلاقی ڈیجیٹل سرگرمیاں اسی سوچ کا نتیجہ ہیں۔ سوشل میڈیا نے دولت کو نمائش بنا دیا ہے اور نمائش نے انسان کو بےسکون کر دیا ہے۔

تعلیم، جو گزشتہ ادوار میں شعور، فہم اور کردار سازی کا ذریعہ تھی، اب کمائی کا راستہ بن گئی ہے۔ آج طالب علم یہ نہیں پوچھتا کہ میں کیا سیکھ رہا ہوں بلکہ یہ پوچھتا ہے کہ اس ڈگری کا پیکج کتنا ہے۔ علم کی گہرائی، سوچ کی پختگی اور تحقیق کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔

تعلیم کو سرمایہ کاری سمجھا جانے لگا ہے ،جس کا مقصد صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اسی سوچ نے تعلیم میں بددیانتی کو فروغ دیا۔ نقل، جعلی ڈگریاں، شارٹ کٹس اور سفارش کلچر عام ہوگیا۔ نوجوان اس بات کی پروا نہیں کرتےکہ وہ جائزطریقے سے کامیاب ہو رہے ہیں یا نہیں، بس نتیجہ چاہیے۔ یہ رویہ نہ صرف تعلیمی نظام کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ پورے معاشرے کو ایک اخلاقی بحران میں دھکیل رہا ہے۔

پیسے کی اس اندھی دوڑ کا سب سے خطرناک پہلو حلال و حرام کی تمیز کا ختم ہونا ہے۔ نئی نسل میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ پیسہ آنا چاہیے، طریقہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ سود، رشوت، دھوکہ، ملاوٹ، ٹیکس چوری، فراڈ اور جھوٹے وعدے اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ صرف اس لیے ہو رہا ہے کہ دولت کو زندگی کا واحد مقصد بنا لیا گیا ہے۔

پیسے کی اس دوڑ نے انسانی رشتوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ گھریلو زندگی سے لے کر خاندان ، برداری و گلی محلے تک، بچپن سے لے کر شادی تک اب یہ ایک مقدس رشتے نہیں بلکہ ایک الگ الگ اسٹیٹس اور مالی معاہدوں کے رشتے بنتے جا رہے ہیں۔

لڑکے کی تنخواہ، لڑکی کا جہیز، معیارِ زندگی اور مالی حیثیت سب سے پہلے دیکھی جاتی ہے، کردار اور اخلاق بعد میں۔ والدین بوجھ محسوس ہونے لگے ہیں، بہن بھائی مقابلہ بن گئے ہیں اور رشتے دار مفاد کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے سب سے قیمتی سرمائے یعنی محبت، خلوص اور تعلق کو خود اپنے ہاتھوں سے کھو دیتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیسے کے پیچھے دوڑنے والی یہ نسل سب سے زیادہ ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہے۔ نوجوانوں میں بےچینی، خودکشی کے رجحانات اور ذہنی بیماریوں کی بڑی وجہ کیریئر پریشر اور مالی دوڑ ہے۔ زیادہ کمانے کے باوجود نیند نہیں آتی، دل مطمئن نہیں ہوتا اور زندگی بےمعنی لگنے لگتی ہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پیسہ انسان کی تمام ضرورتیں پوری کر سکتا ہے، مگر اسے سکون نہیں دے سکتا۔ سکون کا تعلق مقصد، تعلق اور روحانی وابستگی سے ہے، جو اس دوڑ میں کہیں پیچھے رہ گئی ہے۔

ہر شخص اپنی کامیابی کی نمائش میں مصروف ہے اور دوسروں کی زندگی سے موازنہ کر رہا ہے۔ اس موازنے نے حسد، بےچینی اور ناراضگی کو جنم دیا ہے۔ مشرقی معاشرے میں قناعت، صبر، سادگی اور رشتوں کو بنیادی اہمیت حاصل تھی، مگر آج یہ اقدار کمزور سمجھی جانے لگی ہیں۔

قناعت کی جگہ ہوس نے لے لی ہے، صبر کی جگہ جلدی نے اور برکت کی جگہ مقدار نے لے لی ہے۔ یہی تبدیلی نئی نسل کو ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں منزل نظر نہیں آتی، صرف بھاگ دوڑ ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ کامیابی کی تعریف کو ازسرِنو متعین کیا جائے، تعلیم کو کردار سازی سے جوڑا جائے، والدین بچوں کو صرف سیٹل ہونے کے بجائے اچھا انسان بننے کی تربیت دیں، میڈیا اور سوشل میڈیا پر مصنوعی کامیابی کے بیانیے کو چیلنج کیا جائے۔ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پیسہ زندگی کی ضرورت ہے، مگر زندگی کا مقصد نہیں۔

اگر مقصد ہی پیسہ بن جائے تو انسان بہت کچھ حاصل کر کے بھی بہت کچھ کھو دیتا ہے۔ نئی نسل کی اصل جنگ پیسے کے خلاف نہیں بلکہ اس سوچ کے خلاف ہونی چاہیے،اگر ہم نے آج اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو کل ہمارے پاس دولت تو ہوگی مگر انسانیت، رشتے اور سکون نہیں ہوں گے۔