توصیف اکرم نیازی
چند دن پہلے مجھے اپنے ایک دوست کا خیال آیا جن کا تبادلہ کراچی سے اسلام آباد ہو گیا تھا۔ سوچا کہ اُن کا حال معلوم کروں، خاص طور پر ان کے چھوٹے بھائی کا، جو ا سکول کے زمانے سے ہی میتھس کا جادوگر تھا۔ پاکستان میں میتھمیٹکس اولمپیڈ کا ٹاپر، انٹرنیشنل مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والا اور اس کی بڑی بہن بھی ماشاءاللہ بہت ذہین، لائق، ہمیشہ کلاس میں فرسٹ آتی۔ دوست سے معلوم ہوا کہ، وہ دونوں تو اب کینیڈا کی ایک بڑی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالرز ہیں۔
بہن نیورو سائنس میں، بھائی کمپیوٹر سائنس میں۔ اُن کی عمریں ابھی اتنی زیادہ نہیں، لیکن وہ اپنی فیلڈ میں دنیا بھر میں پہچان بنا رہے ہیں۔ ریسرچ کر رہے ہیں، ، کانفرنسز میں بول رہے ہیں۔
میں نے سوچا، واہ!بہت خوب ہمارے نوجوان اتنی کم عمری میں اتنا کچھ کر رہےہیں۔ دل خوشی سے بھر آیا لیکن پھر ایک دکھ سا ہوا کہ یہ ذہین نوجوان پاکستان سے کیوں چلے گئے۔ شاید انہوں نے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ کیا کیونکہ پاکستان میں رہتے تو شاید آج بھی کسی سرکاری دفتر میں اپنی ڈگریوں کی فائل لیے دھکے کھا رہے ہوتے، یا مایوسی کے سمندر میں غوطہ زن رہتے۔ کیونکہ یہاں ان جیسے دماغوں کے لیے جگہ نہیں۔
یہاں میریٹ نہیں، سسٹم نہیں، قدر نہیں۔ یہ دونوں صحیح وقت پر نکل گئے۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہاں ان جیسے نوجوان ضائع ہورہے ہیں۔ باہر جا کر انہوں نے نہ صرف خود کو سنوارا بلکہ دنیا کو بھی اپنی صلاحیتوں سے نواز رہے ہیں۔ یہ صرفہ دو نوجوان نہیں ، بلکہ یہ تو ایک مثال ہے۔
اصل کہانی ایسے ہزاروں، لاکھوں نوجوانوں کی ہے جو ہر سال پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا خزانہ، ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ، ہمارے بہترین دماغ یہاں ٹکتے ہی نہیں۔ ہم نے ایک ایسا نظام بنا دیا ہے، جہاں سچائی، محنت اور ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں، جہاں سفارش، رشوت، سیاسی لابنگ اور خاندانی کنکشن ہی آگے لے جاتے ہیں۔
وہ نوجوان جو ایجادات کر سکتے تھے، جو ملک کی قسمت بدل سکتے تھے، وہ کینیڈا، امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا یا خلیج کے ممالک میں جا کر دوسروں کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
اب اس سب کا اندازہ ورلڈ بینک، یونیسکو، ایچ ای سی، بیورو آف امیگریشن اور نوبل کی آفیشل ویب سائٹ سے لیے گئے اعداد و شمار سے لگاسکتے ہیں ، جس سے حقیقت سامنےآتی ہے۔
2022 میں تقریباً 7 لاکھ 65 ہزار پاکستانی باہر گئے، جن میں 92 ہزار اعلٰی تعلیم یافتہ ماہر تھے۔
2023 میں یہ تعداد 8 لاکھ 60 ہزار کے قریب ہوئی، جن میں ایک لاکھ سے زیادہ ہنر منداورپیشہ ور شامل تھے جن میں 8,741 انجینئرز، 7,390 اکاؤنٹنٹس، 3,486 ڈاکٹرز، 45 ہزار سے زیادہ آئی ٹی ایکسپرٹس، مینیجرز اور نرسیں۔
2024 میں 7 لاکھ 27 ہزار لوگ گئے، جن میں تقریباً 2 لاکھ بہترین ہنر مند۔
2025 میں 7 لاکھ 63 ہزار سے زیادہ، جن میں 18,352 اعٰلی تعلیم یافتہ پیشہ ور اور 13,657 اعلٰی تربیت یافتہ۔
صرف ڈاکٹروں کی بات کریں تو ہر سال 4 سے 5 ہزار ڈاکٹرز پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔ انجینئرز 11ہزار، اکاؤنٹنٹس 13 ہزار۔
بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار اور ورلڈ بینک کی رپورٹس یہ سب بتا رہی ہیں۔ ہر سال پاکستان کا معیشت کو 4.2 ارب ڈالر کا موقع ضائع ہو رہا ہے۔
ہمارا مستقبل، ہماری ایجادات، ہماری جدت باہر جا رہی ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر یہ دماغ یہاں رہتے تو کیا ہوتا؟
اگر ہمارے پاس ان کے لیے ایسا نظام ہوتا، جہاں میریٹ سب سے اوپر ہو، جہاں یونیورسٹیوں میں سیاسی مداخلت نہ ہو، جہاں ریسرچ کے لیے فنڈز ہوں، آزادی ہو تو یہ نوجوان پاکستان کو آئی ٹی کا حب بنا دیتے، میڈیکل ریسرچ میں آگے ہوتے، زراعت میں انقلاب لے آتے۔
ہمارے نوجوانوں کو نوکریاں ملتیں، معیشت آگے بڑھتی۔ یہی وہ چیز ہے جو قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔اس کی ایک مثال جنوبی کوریا کی ہے 1960 کی دہائی میں ہم سے بھی بدتر حالات تھے لیکن آج ٹیکنالوجی کی سپر پاور ہے۔ وجہ؟ انہوں نے اپنے نوجوانوں کی قدر کی، انہیں مواقع دیئے۔
اب ذرا آپ پاکستان کی تعلیم اور سائنس پر توجہ اور خرچ دیکھیں تو دل بیٹھ جاتا ہے۔ پاکستان اپنے GDP کا صرف 1.9 فیصد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے (2023 کے اعداد و شمار)۔ کچھ رپورٹس یہ بتاتی ہیں کہ 2025 میں جولائی سے مارچ تک یہ 0.8 فیصد تک گر گیا۔
ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ پر تو صرف 0.16 فیصد جی ڈی پی۔ یعنی تقریباً کچھ بھی نہیں جبکہ جنوبی کوریا کا 5.13 فیصد (2024 میں) خرچ ہوا تھا۔
ترقی یافتہ ممالک میں حکومت، صنعتیں اور یونیورسٹیاں مل کر کام کرتی ہیں۔ ریسرچرز کو تنخواہیں، لیبز، گرانٹس، آزادی ملتی ہے۔
یہاں رک کر ایک اور بات سوچیں۔ نوبل پرائز جو سائنس، ادب اور امن کا سب سے بڑا اعزاز ہے یہ بھی ایک آئینہ ہے کہ کن ممالک نے اسے حاصل کیا، جہاں ذہین دماغوں کی قدر کرتے ہیں۔ وہاں میریٹ ہے، تحقیق کی آزادی ہے، سیاست تعلیم سے دور ہے۔
دوسرے چھوٹے ممالک کو دیکھتے ہیں جن کی آبادی کراچی یا لاہور جتنی ہے۔سویڈن نے 34 نوبل جیتے ،سوئٹزرلینڈ نے 27، پولینڈ نے 19، ہنگری نے 16 ناروے نے 14 ۔ ان کا تعلیمی نظام، ریسرچ کلچر اور میریٹ انہیں ترقی کی طرف گامزن کرتا ہے۔ وہاں بچےا سکول سے ہی سوچنا، ایجاد کرنا، سوال پوچھنا سیکھتے ہیں۔ یونیورسٹیاں آزاد ہیں، فنڈنگ بہت ہے۔
پوری مسلمان دنیا جس کی آبادی تقریباً 200 کروڑ آبادی ہے انہوں نے سائنس کے شعبے میں صرف 4 نوبل جیتے ہیں۔ عبدالسلام (پاکستان، فزکس 1979)، احمد زویل (مصر، کیمسٹری 1999)، عزیز سنکار (ترکی، کیمسٹری 2015)، مونگی باوندی (تونس نژاد، کیمسٹری 2023)۔ پاکستان کے پاس کل دو نوبل انعام ایک عبدالسلام، دوسرا ملالہ (پیس 2014)۔
باقی امن اور ادب میں کچھ نام ہیں جیسے انور السادات، یاسر عرفات، شیرین عبادی، محمد یونس، نجیب محفوظ، اورخان پاموک۔
لیکن سائنس میں؟ تقریباً کچھ نہیں۔ یہ کوئی مذہب کا مسئلہ نہیں، یہ سسٹم کا مسئلہ ہے۔ جہاں ذہنوں کو موقع ملتا ہے، وہاں وہ کھلتے ہیں۔
ہم اتنا پیچھے کیوں ہیں تو وجہ ہے ہمارے لیڈرزیعنی سیاستدان جو اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اور ملک و قوم کی تقدیر ان کے ہاتھ میں ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان سب کے کے دماغ میں صرف ایک چیز ہے، اپنی کرسی کو مضبوط کرنا، خاندان کو آگے بڑھانا، ووٹ بینک بنانا۔
تعلیم، سائنس، میریٹ، یہ ان کے ایجنڈے میں نہیں۔ وہ سرکاری اسکولوں کو تباہ حالی پر بھی متفکر نہیں، یونیورسٹیوں میں اپنے چہیتوں سے بھر دیتے ہیں، ریسرچ فنڈز کو اپنی جیب میں ڈال لیتے ہیں۔ ان کے اپنے بچے لندن، امریکا، کینیڈا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں، جبکہ یہاں کے بچوں کو فرسٹریشن دی جاتی ہےاور اس سب کے نتیجے میں ہماری ذہین ذہن پاکستان سے جا رہے ہیں۔
سب سے اہم چیز جو ان کو وہاں ملتی ہے وہ ہیں "مواقع"۔ کینیڈا میں اسکالرشپس، امریکا میں ریسرچ گرانٹس، یورپ میں اچھی تنخواہیں، جدید لیبز، آزادی۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ تمہارا باپ کون ہے، تمہارا سیاسی تعلق کیا ہے۔ صرف ان کا کام دیکھا جاتا ہے۔ وہاں میریٹ ہے، وہاں ترقی ہے، وہاں قدر ہے۔ اگر یہ سب دماغ روک لیے ہوتے، اگر میریٹ کا نظام بنایا ہوتا، تو آج پاکستان کیا ہوتا؟
آئی ٹی ایکسپورٹس 50 ارب ڈالر، میڈیکل ٹورزم کا مرکز، زرعی پیداوار دگنی، نوجوانوں کو روزگار، ایجادات کا سیلاب۔ کوریا جیسی اکانومک ہوسکتی تھی لیکن ہمارا سسٹم نوجوانوں کو فرسٹریشن، مایوسی، بے روزگاری دے رہا ہےاور وہ دوسرے ممالک جا رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کریں؟
ہمیں تعلیم پر جی ڈی پی کا کم از کم 4 سے 6 فیصد خرچ کرنا چاہیے، جیسا بین الاقوامی معیار ہے۔
آر اینڈ ڈی پر 2 فیصد تک لے جانا چاہیے۔ نوکریاں، پروموشن، اسکالرشپس سب صرف میریٹ پر ہوں۔ یونیورسٹیوں سے سیاست نکال دیں۔ ریسرچرز کو اچھی تنخواہ، جدید لیبز، پروٹیکشن دیں۔ برینڈرین کو برین گین میں بدلیں، جو واپس آئے، انہیں ٹیکس چھوٹ، فنڈنگ اور عزت دیں۔
ہمیں اور ہمارے ان سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ جو نوجوان پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں یہ ہمارے ہیں ان کے دماغ ہمارے ہیں، اگر ہم اب بھی سوئے رہے تو کل ہمارے بچے بھی باہر جا کر دوسروں کے لیے کام کریں گے، ہماری کہانیاں سنائیں گے۔
سوچیں، بات کریں، آواز اٹھائیں، میریٹ، اچھا سسٹم، تعلیم پر سرمایہ کاری ہی پاکستان کو بدل سکتی ہے۔