کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیرجامعات و بورڈزسندھ محمداسماعیل راہو اور وزیر تعلیم سردار شاہ نے نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نقل کرنے والا طالب علم کبھی بورڈ کے امتحانات نہیں دے سکے گا اور ملوث عملے کو نوکری سے فارغ کیا جائے گا، اس سلسلے میں دونوں وزراء کا مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میٹرک و انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نقل میں ملوث طلبہ اور عملے کے خلاف پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کردی گئی ہے، امتحانی عمل کے دوران انویجیلیٹر، انٹرنل، ایکسٹرنل یا کوئی بھی انتظامی افسر کے ملوث ہونے کی صورت میں محکمہ جاتی کارروائی ہوگی، موبائل یا نقل کرنے کا مواد رکھنے والے طالب علم کو فوری طور پر امتحانی عمل سے خارج کیا جائے گا اور تمام پرچے منسوخ کر دیے جائیں گے، امتحانی مراکز پر نگرانی کا نظام سخت کیا جائے گا، کسی بھی مداخلت کی صورت میں سخت ایکشن ہوگا، دریں اثنا صوبائی وزیرمحمد اسماعیل راہو نے2 امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا، جہاں بے ضابطگیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے دونوں امتحانی مراکز کو فوری منسوخ کرنے کے لیے چیئرمین میٹرک بورڈ کو احکامات جاری کر دیے، اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ امتحانی عملہ غیر قانونی طور پر دیگر اسکولوں کے طلبہ سے پرچے حل کروا رہا تھا، جبکہ مرکز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ بھی موجود تھے جو سنگین خلاف ورزی ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ سینٹر کی تبدیلی میں ملوث بورڈ اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ، صوبائی وزیر نے ایس آر پبلک سیکنڈری اسکول شاہ فیصل کالونی اور ایس آر پبلک اسکول اینڈ کالج سعود آباد، ملیر کے امتحانی مراکز کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا، علاوہ ازیں جمعہ کے روز صبح کی شفٹ میں نہم جماعت کا کیمیا نظری (پرچہ اول) اور شام کی شفٹ میں دہم جماعت کا ریاضی پرچہ دوم لیا گیا،اس موقع پر کئی امتحانی مراکز سے نقل میں ملوث 45امیدواروں کی رپورٹ بورڈ کے رپورٹنگ سیل میں رجسٹرڈ کروائی گئی ۔