سکھر (بیورو رپورٹ) خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی کے گاؤں بٹو چانڈیو میں جرگہ کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے سیاہ کاری کے الزام میں خاتون خالدہ عرف روبینہ کے بہیمانہ و سفاکانہ قتل نے ان گنت سوالات کو جنم دیا ہے۔ جبر و جہل کی دلدل اور ظلم و ستم کی چکی میں پستی بنت حوا کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ کب تھمے گا؟ وڈیرانہ، جاگیردارانہ و جاہلانہ نظام کا خاتمہ کب ہوگا؟ آئین و قانون کی بالا دستی کا پھریرا لہرائے گا یا پھر سلطنت کے اندر سلطنت کی مانند جرگہ سسٹم کے فیصلے کشت و خون کا بازار گرم رکھیں گے؟ پانچ ہزار سالہ قدیمی تہذیب کی امانت دار سندھ دھرتی شاہ عبدالطیف بھٹائی، سچل سرمست، لال شہباز قلندر، بیدل بیکس، وتایو فقیر ودیگر صوفی بزرگوں، اولیاء کرام و شعراء کے علم و عمل و کردار کے ذریعے امن و محبت آشتی بھائی چارے کی لازوال داستانیں اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔