پشاور(جنگ نیوز)خیبر پختونخوا میں پراجیکٹ ملازمین کی تنخواہوں میں نمایاں فرق، نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا گیاہے۔ صوبے میں پراجیکٹ ملازمین کی تنخواہوں کے پیکج پر گزشتہ چار سال سے نظرِ ثانی نہ ہونے کے باعث صوبائی اور وفاقی سطح پر تنخواہوں میں واضح فرق آ گیا ہے، جس پر ملازمین کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت نے05مارچ 2026کو پراجیکٹ ملازمین کیلئے نئے اسٹینڈرڈ پے پیکجز کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، جو یکم جولائی 2026سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں اب تک 2022کے پے پیکج پر ہی عملدرآمد جاری ہے اور اس میں کوئی نئی ترمیم یا اضافہ نہیں کیا گیا۔ تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام PPS اسکیلز میں وفاقی اور صوبائی تنخواہوں کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ نچلے گریڈز میں یہ فرق ہزاروں روپے تک محدود ہے، جبکہ اعلیٰ گریڈز میں یہ فرق ایک لاکھ سے بڑھ کر چار لاکھ پچاس ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے۔ مثال کے طور پر PPS-1(BPS1-4) میں وفاقی کم از کم تنخواہ 37ہزار800روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ25ہزار روپے ہے، یعنی 12ہزار 800روپے کا فرق۔ اسی طرح PPS-6(BPS16) میں وفاقی تنخواہ 1لاکھ 41ہزار 750روپے ہے جبکہ صوبے میں یہ 75ہزار روپے ہے، جس سے 66ہزار 750 روپے کا فرق سامنے آتا ہے۔ اعلیٰ اسکیلز میں فرق مزید بڑھ جاتا ہے۔ PPS-8(BPS18) میں وفاقی تنخواہ 2لاکھ95ہزار320روپے ہے جبکہ صوبائی سطح پر یہ 1لاکھ 50ہزار روپے ہے، یعنی 1لاکھ 45ہزار 320 روپے کا فرق۔ اسی طرح PPS-12 (BPS22) میں وفاقی پیکج 10لاکھ 50 ہزار روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ صوبے میں یہ 6لاکھ روپے کے قریب ہے، جس سے4لاکھ50ہزار روپے کا نمایاں فرق ظاہر ہوتا ہے۔