• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کا امریکی ناکہ بندی ختم ہونے سے پہلے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار


فوٹو: ایرانی میڈیا
فوٹو: ایرانی میڈیا 

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے بعد امریکی ناکہ بندی کا جاری رہنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ آبنائے ہرمز اُس وقت تک نہیں کھولیں گے جب تک یہ ناکہ بندی ختم نہیں ہوگی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی مہر نیوز کو جاری بیان میں کونسل نے کہا کہ کچھ نئی امریکی تجاویز سامنے آئی ہیں، ان کا جائزہ لے رہے ہیں، جائزے کے بعد باضابطہ جواب دیا جائے گا، مذاکرات میں ایرانی قومی مفادات کا دفاع کیا جائے گا اور کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز کی تازہ ترین صورتحال کی بات کریں تو جنگ بندی معاہدے کے باوجود امریکا نے ایرانی سمندروں کی ناکابندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ جس کے باعث ایران نے آبنائے ہرمز کھول کر 24 گھنٹے سے بھی کم وقت میں دوبارہ بند کردی۔

ایک اندازے کے مطابق بندش کے خاتمے کے بعد 9 مختلف بحری جہاز آبنائے ہُرمُز سے گزر گئے تاہم بعد میں ایران نے آبنائے کو دوبارہ بند کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایرانی گن بوٹس نے ایندھن سے لدے دو بھارتی پرچم بردار جہازوں پر فائرنگ کی۔

اسی دوران امریکی سینٹ کام نے 23 ایسے بحری جہازوں کو حملے کی دھمکیاں دے کر رخ موڑنے پر مجبور کیا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ جنگی محاذ پر مخالف فریقوں کی ناکامی اور بعد ازاں امریکا کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کے بعد ایران نے پاکستان کی ثالثی میں جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وفد نے طویل مذاکرات میں گہرے عدم اعتماد کے باوجود قومی مؤقف مضبوطی سے پیش کیا، تاہم بات چیت اس وقت تعطل کا شکار ہوگئی جب مخالف فریق نے نئی شرائط پیش کیں، جنہیں ایران نے مسترد کر دیا۔

بیان کے مطابق ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنے بنیادی مؤقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، اسی لیے مذاکرات اس وقت تک مؤخر کر دیے گئے جب تک دوسرا فریق زمینی حقائق کے مطابق اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرتا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم قومی مفادات پر کوئی رعایت نہیں دے گی اور ایرانی عوام کے حقوق و قربانیوں کا دفاع جاری رکھے گی۔

ایران نے کہا کہ عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فائر بندی ہو، لیکن اسرائیل نے ابتدا ہی سے لبنان اور حزب اللّٰہ پر حملوں کے ذریعے اس کی خلاف ورزی کی۔

بیان کے مطابق ایران کے اصرار پر اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی قبول کی، اور یہ طے پایا کہ اگر دشمن تمام محاذوں پر جنگ بندی کا احترام کرے تو آبنائے ہرمز کو عارضی اور مشروط طور پر صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولا جائے گا۔

ایران نے واضح کیا کہ فوجی جہازوں یا دشمن ممالک کے غیر فوجی جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ تمام آمد و رفت ایرانی مسلح افواج کی نگرانی، اجازت اور ایران کے مقرر کردہ راستوں کے تحت ہوگی۔

بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کی اکثریتی لاجسٹک سپورٹ آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے، جو ایران کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اسی لیے جنگ کے مکمل خاتمے اور مستقل امن تک ایران اس گزرگاہ پر نگرانی اور کنٹرول جاری رکھے گا۔

ایران کے مطابق اس نگرانی میں جہازوں کی مکمل معلومات حاصل کرنا، عبوری سرٹیفکیٹ جاری کرنا، سکیورٹی، حفاظت اور ماحولیاتی خدمات کی فیس وصول کرنا، اور ایرانی قوانین کے مطابق مقررہ راستوں پر سفر شامل ہوگا۔

ایس این ایس سی نے خبردار کیا کہ اگر دشمن جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے یا بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کی کوشش کرے گا تو ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کرے گا اور آبنائے ہرمز کی محدود و مشروط کھولنے کی اجازت بھی ختم کر دے گا۔

بیان کے آخر میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ میدان جنگ کی کامیابیوں کو مضبوط بنانے اور سفارتی کامیابی کے لیے عوامی موجودگی، مکمل چوکسی اور قومی اتحاد ناگزیر ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید