• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران، امریکا، دوبارہ جنگ کی دھمکیاں شروع، دنیا سہم گئی

تہران، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کو دوبارہ جنگ کی دھمکیاں دینا شروع کردیں، دھمکیوں کےبعد پوری دنیا سہم گئی ، ایران نے آبنائے ہرمز پھر بند کردی،ایران کی پاسدارانِ انقلابِ کا کہنا ہے کہ   ایرانی بندرگاہوں کی مسلسل امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اب اپنی "سابقہ حالت" پر واپس آگیا ہے،امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ناکہ بندی کے بعد 23 جہازوں کو واپس جانے کی ہدایات دی گئی ہیں،ایکس پر ایک پوسٹ میں سینٹ کام نہ کہا کہ امریکی فورسز کی جانب سے 13 اپریل کو شروع ہونے والی ناکہ بندی اب بھی نافذ العمل ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ بلیک میل نہیںہوں گے ، ہمارے پاس اچھی خبر ہے، کل تک سرپرائز ہو سکتا ہے،ایک ذہین شخص وائٹ ہاوس آئیگا، انہوں نے دھمکی دی کہ بدھ تک معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی ختم کردی جائے گی ،ایران کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک مکمل طور پر برقرار رہے گی" جب تک "ایران کے ساتھ ہمارے معاملات 100 فیصد حل نہیں ہوجاتے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری بات چیت جاری ہے ، ایران کے رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ دشمنوں کو نقصانات پہنچانے کیلئے پوری طرح تیار ہے، ایران کے نائب وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ فریم ورک معاہدے تک امریکا کیساتھ مزید براہ راست مذاکرات نہیں کریں گے ،امریکی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ ایران امریکا کے ساتھ نئے دور کے آمنے سامنے مذاکرات کے لئےتیار نہیں ہے، کیونکہ ان کے بقول واشنگٹن اہم معاملات پر ’زیادہ سے زیادہ مطالبات‘ سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں،امریکاکو افزودہ یورینیم دینے پر بھی تیار نہیں، فریقین کے درمیان رابطہ موجود ہے، تاہم ایران چاہتا ہے کہ براہِ راست مذاکرات سے پہلے ایک ’فریم ورک معاہدہ‘ طے پا جائے، واشنگٹن سے مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے ،ترکیہ میں ایک سفارتی فورم سے خطاب کرتے ہوئے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ "امریکی محاصرے کے ذریعے ایران پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتے"، انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے جس کے "نتائج" بھگتنا ہوں گے۔ دوسری جانب آبنائے سے گزرنے والے بھارتی جہازوں پر فائرنگ ،دونوں کو واپس جانے پر مجبور کردیا گیا ، بھارتی وزارت خارجہ نے واقعے پر انڈیا میں تعینات ایرانی سفیر محمد فتحلی کو طلب کیا اور ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے فائرنگ سے انڈین پرچم بردار دو بحری جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے بعد سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ’بہت اچھی بات چیت‘ جاری ہے تاہم امریکا ایران کو آبنائے ہرمز کے معاملے پر بلیک میل نہیں کرنے دے گا۔اوول آفس میں ایک مختصر گفتگو کے دوران انہوں نے ایران کے رویے کو 47 برسوں سے جاری ایک پرانی عادت قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی رہنما آبنائے ہرمز کو بند کرنا چاہتے ہیں، لیکن امریکا انھیں اجازت نہیں دے گا کہ وہ ’ہمیں بلیک میل‘ کریں۔انھوں نے مزید کہا کہ امریکا اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے۔ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے آرمی ڈے کے موقع پر ایک پیغام میں ’دشمنوں‘ کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی بحریہ انہیں ’نئی شکستوں کا مزا چکھانے‘ کے لئے تیار ہے تاہم اس بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔یاد رہے کہ ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد سے اس دن کو آرمی ڈے کا نام دیا گیا ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں ایرانی فوج کو ’اسلام کی فوج‘ کہا اور یہ بھی کہا کہ یہ فوج ’پچھلی دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح اب بھی اپنی زمین، پانی اور جھنڈے کا بہادری سے دفاع کر رہی ہے۔‘اس پیغام میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ان کے والد علی خامنہ ای کا یوم پیدائش بھی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے کو جہاز رانی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بعض تجارتی جہازوں کو ایرانی بحریہ کی جانب سے ایک ریڈیو پیغام موصول ہوا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے۔برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی بحریہ نے ٹینکرزکو بتایا ہے کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں۔ دریں اثناء برطانیہ کی ایک میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی نے بتایا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک ٹینکر پر فائرنگ کی، جبکہ سیکورٹی انٹیلی جنس فرم وین گارڈ ٹیک کی رپورٹ کے مطابق فورس نے خلیج سے فرار ہونے والے ایک خالی کروز جہاز کو "تباہ" کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ایک تیسرے واقعے میں، یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے کہا کہ اسے اسی علاقے میں ایک بحری جہاز کے بارے میں رپورٹ ملی ہے جس پر "ایک نامعلوم گولہ گرا جس سے شپنگ کنٹینرز کو نقصان پہنچا" تاہم آگ نہیں لگی۔امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں، جو واشنگٹن اور اس کے اتحادی نے 28 فروری کو شروع کی تھی، دو ہفتوں کی جنگ بندی ختم ہونے میں اب صرف چار دن باقی رہ گئے ہیں۔ 

اہم خبریں سے مزید