انصار عباسی
اسلام آباد :…سفارت کاری کی دنیا میں بڑی کامیابیاں عام طور پر مہینوں، اور بعض اوقات برسوں میں حاصل ہوتی ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے پاکستان نے اسے ایک نیا مفہوم دیا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی سے لے کر لبنان اور اسرائیل کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی تک، اور خلیجی رقابتوں سے لے کر عالمی سطح پر توانائی کے اہم راستوں کے حوالے سے خدشات تک، اسلام آباد نے صرف دو ہفتوں کے اندر ایسی سفارتی پیش رفت میں کردار ادا کیا ہے جس کی بہت کم لوگوں کو توقع تھی۔سیاست اور سفارت کاری کی دنیا کے بہترین ماہرین بھی برسوں میں وہ حاصل نہ کر سکے جو پاکستانی قیادت کے تین افراد وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مسلسل سفارت کاری اور بے خواب راتیں گزار کر اتنے کم عرصے میں ممکن بنا دیا۔سب سے اہم پیش رفت واشنگٹن اور تہران کے درمیان دہائیوں پرانی کشیدگی میں کمی کی صورت میں سامنے آئی۔ جبکہ اقوام متحدہ اور یورپ محض تماشائی بنے ہوئے تھے، پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں سہولت کاری کر کے دنیا کو ایک بڑے تنازع کے دہانے سے واپس لانے میں مدد دی۔اسی دوران پاکستان ایران اور عرب خلیجی ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا تاکہ وہ ایک طویل جنگ میں داخل نہ ہوں۔ جنگ بندی کے چند دن بعد اسلام آباد نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی جو 1979کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطح کی براہ راست بات چیت تھی۔ اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا دور جلد متوقع ہے جس کا مقصد دونوں حریفوں کے درمیان پیش رفت، پائیدار امن، اور عالمی معاشی خدشات میں کمی لانا ہے۔ جس بات نے بہت سوں کو حیران کیا وہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں بھی پاکستان کا اہم کردار ہے۔