• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایرانی عوام کی بڑی تعداد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم

---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
---فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

ایرانی حکومت نے جنگی حالات کے دوران محدود انٹرنیٹ تک رسائی کچھ مخصوص افراد اور اداروں تک بڑھانا شروع کر دی ہے تاہم ملک کی بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہے۔

الجزیرہ کے مطابق 28 فروری کو دارالحکومت تہران میں حملوں کے بعد حکومت نے تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش نافذ کر دی تھی جس کے باعث انٹرنیٹ کا استعمال 2 فیصد تک رہ گیا تھا، اس بندش سے معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا جبکہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

حکومت کی جانب سے ’انٹرنیٹ پرو‘ نامی سروس متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت محدود ویب سائٹس اور چند ایپس تک رسائی دی جا رہی ہے، یہ سہولت صرف منتخب افراد جیسے تاجروں، اساتذہ، ڈاکٹروں اور محققین کو فراہم کی جا رہی ہے جس کے لیے مکمل شناخت اور دستاویزات لازمی ہیں۔

اس کے علاوہ ایک خصوصی سِم سروس بھی موجود ہے جو نسبتاً بہتر انٹرنیٹ فراہم کرتی ہے لیکن یہ صرف حکومتی شخصیات اور ان سے منسلک افراد تک محدود ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق عوامی سطح پر اس اقدام کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بنیادی حق ہے اور اسے مخصوص طبقے تک محدود کرنا ناانصافی ہے، کئی افراد نے روزگار کے نقصان اور پیشہ ورانہ مسائل کی شکایات بھی کی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکومت انٹرنیٹ پر سخت کنٹرول کے لیے نئے نظام متعارف کروا رہی ہے جبکہ صارفین مختلف طریقوں سے ان پابندیوں کو عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم اکثر طریقے جلد ہی حکومت کی جانب سے ناکام بنا دیے جاتے ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید