کراچی (رفیق مانگٹ) جنگ بندی مذاکرات کے حساس مرحلے پر ٹرمپ نے ایران سے آٹھ خواتین کو پھانسی نہ دینے اور انہیں رہا کرنے کی اپیل کر کے سفارتی محاذ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے، رہا کیا جائے، یہ مذاکرات کا بہترین اغاز ہوگا،نیویارک میں قائم یہودی تنظیم نے ان خواتین کی شناخت بھی ظاہر کردی، سفارتی محاذ پر نئی بحث شروع ہوگئی،ایرانی عدلیہ نے ان تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ خبریں جعلی اور بے بنیاد ہیں اور کسی خاتون کو حتمی طور پر سزائے موت نہیں سنائی گئی،عالمی میڈیا نے بھی اس معاملے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے اور معلومات کے غیر مصدقہ ہونے کی نشاندہی کی ہے۔نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے اسلام آباد میں جاری جنگ بندی مذاکرات کے دوران ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جرائم کے الزام میں سزائے موت پانے والی آٹھ خواتین کو پھانسی نہ دے۔صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہاایرانی قیادت سے، جو جلد میرے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ہے، میری بھرپور درخواست ہے کہ ان خواتین کو رہا کر دیا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ اس اقدام کی قدر کریں گے۔ براہِ کرم انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ یہ ہمارے مذاکرات کا ایک بہترین آغاز ہوگا۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں 23 سالہ مبصر ایال یعقوبی کی ایک پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شامل کیا، جس میں آٹھ خواتین کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔نیویارک میں قائم یہودی انسانی حقوق کی تنظیم دی لا فیئر پراجیکٹ کے مطابق ان خواتین کی شناخت بیتا ہمتی، غزل قلندری، گلناز نراقی، وینس حسینی نژاد، پناہ موحدی، انسیہ نجاتی، محبوبہ شعبانی اور ڈیانا طاہر آبادی کے ناموں سے ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق بیتا ہمتی کو ایران میں سزائے موت پانے والی پہلی خاتون مظاہرہ کرنے والی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے جنوری میں تہران میں ایرانی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے میں کردار ادا کیا۔نیشنل کونسل آف ریزسٹینس آف ایران کے مطابق انہیں تشدد اور سخت تفتیش کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سرکاری ٹی وی پر ان سے اعترافِ جرم کروایا گیا۔اسی طرح وینس حسینی نژاد اور پیوند نعیمی کو ایرانی سکیورٹی فورسز نے ان کی ملازمت کی جگہوں سے حراست میں لیا اور سرکاری ٹی وی پر ان احتجاجی مظاہروں کے اعتراف پر مجبور کیا جن میں وہ شریک ہی نہیں تھیں۔