تحریک انصاف کو عوامی سطح پر چاہے کتنی ہی مقبولیت حاصل ہو، موجودہ سیاسی حالات میں اس کی عملی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ مگر قابلِ غور حقیقت ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کا تنظیمی اور سیاسی ڈھانچہ شدید کمزور دکھائی دیتا ہے۔ بلاشبہ عمران خان اب بھی اس جماعت کی اصل اور واحد قوت ہیں، لیکن ان کی عدم موجودگی میں پارٹی قیادت کی مؤثر حیثیت تقریباً نہ ہونے کے برابر محسوس ہوتی ہے۔ چاہے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان ہوں، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ یا خیبر پختونخوا کی قیادت، ان میں سے کوئی بھی ایسا نظر نہیں آتا جسکے پاس نہ صرف فیصلہ سازی کا اختیار ہو بلکہ وہ کارکنان اور ووٹرز پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اگر یہ کہا جائے کہ ان میں سے کسی کو بااختیار اور بااثر بننے کی اجازت ہی نہیں توشاید یہ غلط نہ ہو گا۔ اب تو صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ پارٹی کے اپنے کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہی اپنے رہنماؤں کو نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں غداری کے طعنے دیے جاتے ہیں، اُن کا مذاق اُڑایا جاتا ہے اور پھر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ عمران خان کو رہا کیوں نہیں کروایا جا سکا۔ یہ تنقید صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض اوقات عمران خان کے قریبی حلقوں، حتیٰ کہ ان کی بہنوں کی جانب سے بھی پارٹی قیادت پر سخت جملے سننے کو ملتے ہیں۔ ایک طرف قیادت کے پاس اختیارات نہیں، دوسری طرف توقعات کا بوجھ انہی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ ہر ناکامی اور ہر تعطل کا ذمہ دار بھی انہی کو ٹھہرایا جاتا ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے ایک غیر صحت مند رجحان ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف میں اس وقت اگر کوئی حقیقی اثر و رسوخ رکھتا ہے تو وہ یا عمران خان ہیں یا پھر سوشل میڈیا۔ مگر سوشل میڈیا کی یہ طاقت مثبت سیاسی حکمت عملی کے بجائے اکثر جذبات، غصے اور نفرت کے اظہار تک محدود ہو چکی ہے۔ اس نے پارٹی کے بیانیے کو تقویت دینے کے بجائے کئی مواقع پر نقصان پہنچایا ہے۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا خود کو انقلابی ضرور کہتا ہے، لیکن اس کا زیادہ تر زور مخالفین اور حتیٰ کہ اپنے رہنماؤں کے خلاف سخت زبان اور گالم گلوچ پر صرف ہوتا ہے۔ ایسے میں سنجیدہ سیاسی حلقے اس بیانیے کو اہمیت دینے کے بجائے نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس"انقلابی" قوت کا ایک بڑا حصہ یا تو بیرون ملک بیٹھا ہے یا عملی سیاست سے دور ہے، جبکہ ملک کے اندر بھی کارکنان کسی بڑی سیاسی قربانی یا جدوجہدکیلئے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ یہ ایک بڑا تضاد ہے کہ ایک طرف انقلاب کے دعوے ہیں، دوسری طرف عملی میدان میں خاموشی۔ ووٹر اور سپورٹر کسی تکلیف یا جدوجہد کیلئے تیار نہیں، جبکہ رہنما اختیارات سے محروم ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پارٹی آگے کیسے بڑھے؟ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اگر واقعی طاقتور ہے تو اس کی طاقت کا رخ درست سمت میں ہونا چاہیے تھا، لیکن فی الحال یہ زیادہ تر اپنی ہی قیادت کیلئے مسئلہ بن چکا ہے۔ مخالفین کیلئےیہ محض ایک شور ہے جسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کیلئے سب سے بڑا چیلنج بیرونی نہیں بلکہ اندرونی ہے۔ ایک ایسی جماعت جو عوامی مقبولیت رکھتی ہو مگر تنظیمی کمزوری، قیادت کے بحران اور غیر ذمہ دارانہ بیانیے کا شکار ہو، وہ دیر تک مؤثر سیاست نہیں کر سکتی۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ کیا پارٹی اپنی صفوں میں نظم و ضبط، سنجیدگی اور عملی حکمت عملی پیدا کر پائے گی؟ یا پھر یہ اندرونی انتشار ہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن کر اسے مزید غیر مؤثر کرتا جائے گا؟ فی الحال اس سوال کا واضح جواب دینا مشکل ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے اپنے اندرونی تضادات پر قابو نہ پایا تو اس کی عوامی مقبولیت بھی اسے سیاسی طور پر مؤثر بنانے کیلئے کافی نہیں ہوگی۔ تحریک انصاف کو اب اس حالت سے کون بچائے گا؟ اس کا جواب کم از کم میرے پاس تو نہیں!!