2 ماہ سے جاری ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں شدت آ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا ’انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا ’ناممکن‘ ہے، جب تک سمندری ناکہ بندی ختم نہیں ہوتی، کسی بھی جنگ بندی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
دوسری جانب امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں پر اس کی پابندیاں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور اس سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ ایران سے منسلک متعدد بحری جہاز ان ہی پابندیوں کے باوجود آبنائے ہرمز عبور کر چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی بحریہ کے سربراہ جان فیلن کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں امریکی دفاعی قیادت میں کئی اہم تبدیلیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ امن مذاکرات آئندہ 2 دن میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔