کراچی ( اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسٹاک ایکس چینج، ایران امریکا مذاکرات میں ڈیڈ لاک سےمارکیٹ میں ایک بار پھربے یقینی کے سائے گہرے ہو گئے، مایوس سرمایہ کاروں کی جانب سے سرمائےکے انخلا ء کا رحجان ، کے ایس ای100 انڈیکس میں 2406پوائنٹس کی کمی،انڈیکس ایک لاکھ 71ہزار پوائنٹس سے کم ہو کر ایک لاکھ 69ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر آگیا، 59.21 فیصد کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت کم ہو گئی،سرمایہ کاری مالیت 257 ارب 2 کروڑ 94 لاکھ روپے گھٹ گئی، تاہم فروخت بڑھنے کی وجہ سے کاروباری حجم 25.37 فیصد زیادہ رہا، تفصیلات کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے ڈیڈ لاک اور مشرق وسطی کے مستقبل بارے بے یقینی سے مارکیٹ میں منفی اثرات ، سرمایہ کاروں کی جانب سے تمام اہم سیکٹرز میں فروخت کے شدید دباوسے مارکیٹ میں مندی کی بڑی لہر ،جمعرات کو ٹریڈنگ کا آغاز ہی منفی زون میں ہوا جس کے بعد دن بھر مندی کا رحجان غالب رہا اورایک موقع پر انڈیکس 3163 پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 68 ہزار پوائنٹس پر آگیا تاہم اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 2405.93 پوائنٹس کی کمی سے 171579.31 پوائنٹس سے کم ہو کر 169173.38 پوائنٹس پر آکر بند ہوا۔