• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران جنگ میں امریکا میں ایک اور برطرفی، نیوی سیکریٹری جان فیلن فارغ

کراچی (رفیق مانگٹ) ایران جنگ کے دوران امریکا میں ایک اور برطرفی، نیوی سکریٹری جان فیلن فارغ، ٹرمپ انتظامیہ کو اندرونی سطح پر بڑے بحران کا سامنا، دو ماہ میں کم از کم 5 اعلیٰ عہدیدار ہٹائے گئے یا مستعفی ہوئے، فیلن جہاز سازی پالیسی اختلافات پر برطرف ہوئے، ہیگستھ اس بات پر بھی ناراض تھے کہ انہوں نے سینیٹر مارک کیلی کیخلاف سخت مؤقف نہیں اپنایا، پینٹاگون میں قیادت کا عدم استحکام، فیصلہ سازی بحران کا شکار، جنگی محاذ کے ساتھ داخلی سیاسی کشمکش، اسٹریٹجک بے یقینی بڑھ گئی۔ عالمی میڈیا کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو اندرونی سطح پر بڑے بحران کا سامنا ہے، جہاں صرف دو ماہ میں کم از کم پانچ اعلیٰ حکام کو ہٹایا یا مستعفی ہونا پڑا۔ کابینہ اور فوجی قیادت میں یہ تیز رفتار تبدیلیاں سیاسی دباؤ، گرتی مقبولیت اور پالیسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہیں۔ امریکی بحریہ کے سیکرٹری جان فیلن کی برطرفی نے اس عدم استحکام کو مزید نمایاں کر دیا، جو جہاز سازی پالیسی اور پینٹاگون قیادت سے اختلافات کا نتیجہ تھی۔ اسی دوران آرمی چیف آف اسٹاف، اٹارنی جنرل، لیبر سیکریٹری اور ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری سمیت دیگر اہم شخصیات بھی عہدوں سے الگ ہوئیں، جو انتظامی کمزوریوں اور اندرونی تنازعات کو ظاہر کرتا ہے۔ سینیٹر جیک ریڈ نے ان برطرفیوں کو محکمہ دفاع میں بڑھتی بدانتظامی کی علامت قرار دیا۔ یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی سخت کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ تہران کو دباؤ کے ذریعے مذاکرات پر لانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس جنگ کو غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے۔ توانائی قیمتوں میں اضافہ اور عوامی ردعمل نے سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ادھر چین کی تیزی سے بڑھتی جہاز سازی صلاحیت نے امریکی بحری برتری کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے اندر قیادت کے اختلافات، ناکام پالیسی ہم آہنگی اور تیزی سے بدلتی تعیناتیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ امریکہ نہ صرف بیرونی محاذ پر بلکہ اندرونی سطح پر بھی ایک بڑے دباؤ اور غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد کم از کم پانچ اعلیٰ حکام اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہو چکے ہیں یا انہیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ مارچ سے اب تک یہ تعداد کم از کم پانچ بنتی ہے، جب کئی اعلیٰ عہدیدار یا تو دباؤ کے تحت مستعفی ہوئے یا انہیں ہٹا دیا گیا۔ یہ دو ماہ کا عرصہ اس وقت کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو عوامی سطح پر غیر مقبول قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی بھی دیکھی گئی۔

اہم خبریں سے مزید