• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور میں مالی بحران اور بے ضابطہ بھرتیوں کے الزامات

پشاور(ارشد عزیز ملک ) یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور کو اس وقت بڑھتے ہوئے مالی، انتظامی اور تعلیمی بحران کا سامنا ہے، جبکہ سبکدوش ہونے والے وائس چانسلر کی مدت کے آخری مرحلے میں گورننس، بھرتیوں کے طریقہ کار اور ادارہ جاتی نظم و نسق پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔دستیاب ذرائع کے مطابق یونیورسٹی اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ رواں ماہ کی تنخواہیں مبینہ طور پر ملازمین کو ادا نہیں کی جا سکیں، جبکہ متعدد ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن واجبات بھی تاحال زیر التوا ہیں، جن میں سے کچھ کیسز عدالتوں میں بھی جا چکے ہیں۔ اس کے باوجود بھرتیوں اور ترقیوں کا عمل جاری ہے، جس سے مالی ترجیحات اور پائیداری پر خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔جاری بھرتیوں کے عمل کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سلیکشن بورڈ کی کارروائیاں کئی سال پرانے اشتہارات کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، جن میں بعض اشتہارات 2015 جبکہ دیگر 2021 میں شائع ہوئے تھے ۔سبکدوش وائس چانسلر جہاں بخت نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے جنگ کو بتایا کہ انکے تمام اقدامات اور فیصلوں کا ریکارڈ موجود ہے۔ ہمیشہ قانون، قواعد و ضوابط اور یونیورسٹی ایکٹ کی پاسداری کی۔ اپنے پورے کیریئر میں دیانتداری سے فرائض انجام دیےانھوں نے کہا کل اپنے سات سالہ دور میں دو نئی فیکلٹیز قائم کیں اور متعدد مارکیٹ پر مبنی ڈگری پروگرامز شروع کیے۔ یونیورسٹی کا 60 فیصد سے زائد حصہ شمسی توانائی پر منتقل کیا۔ اخراجات میں کمی اور آمدن میں اضافہ کیا۔ ریگی لالمہ ٹاؤن میں یونیورسٹی کے لیے 55 کنال زمین حاصل کی۔

اہم خبریں سے مزید