اسلام آباد، واشنگٹن، تہران (رانا غلام قادر، طاہر خلیل، ایجنسیاں) پاکستان کی سفارتی کوششوں میں تیزی، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کا دورہ مکمل کرکے فوراً پاکستان واپس جائینگے، شیڈول کے مطابق انہیں دورہ عمان کے بعد روس جانا تھا، تاہم اب عراقچی پاکستان کے بعد روس جائینگے انکے وفد کا کچھ حصہ تہران چلا گیا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق معاملات پر مشاورت اور رہنمائی لے سکیں، یہ وفد اتوار کی شب عراقچی کو دوبارہ جوائن کر لے گا، دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ کے روز ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی،تقریباً پچاس منٹ تک جاری رہنے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن کیلئے عزم کا اظہارکرتے ہوئے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا، شہباز شریف کا کہنا ہے ایرانی صدر مسعود پپزشکیان سے تعمیری گفتگو ہوئی، دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنرکا دورہ پاکستان منسوخ کردیا،انہوں نے کہا کہ جب تمام کارڈز ہمارے پاس ہے تو امریکی وفد 18گھنٹے کی پرواز سے وہاں جاکربےمقصد باتوں کیلئے نہیں بیٹھے گا، تاہم دورے کی منسوخی کا مطلب جنگ دوبارہ شروع کرنا نہیں،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم شہباز شریف بہترین شخصیات ہیں، پاکستان نے ایران امریکا تنازع حل کرانے کیلئے بہترین کام کیا،ٹرمپ نے کہا کہ یہ بہت سادہ سی بات ہے کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکتا، دریں اثناء ایرانی وفد پاکستانی قیادت سے ملاقات کے بعد اسلام آباد سے فوجی جیٹ طیاروں کی نگرانی میںعمان روانہ ہو گیا،قبل ازیں ایران کے وزیر خارجہ عراقچی نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جس میں خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے جنگ کے ’مکمل خاتمے‘ سے متعلق ایران کا ’اصولی مؤقف‘ پاکستان کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، ’’ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکا واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے۔‘‘انہوں نے کہا فیلڈ مارشل سے ملاقات میں مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی روابط کے فروغ کیلئے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی وفد نے ہفتہ کی سہ پہر وزیر اعظم ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ میں ملاقات کی تفصیل بتانے سے گریز کیاگیا اور صر ف ایک جملہ تحریر کیا گیا کہ ملاقات میں خطے کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ تاہم ایرانی نیوز ایجنسی ارنا نے اس ملاقات کے بارے میں قدرے تفصیل سے خبر جاری کی ہے۔ ارنا کے مطا بق ایران کے وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں وزیر اعظم پاکستان کے ساتھ ایک سرکاری ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات، علاقائی پیشرفت اور اسلام آباد کی سفارتی کوششوں سے متعلق تازہ ترین پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ فریقین نے ایران پاکستان تعلقات، علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے بالخصوص جنگ کو مکمل طور پر روکنے کیلئے جاری سفارت کاری پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے عباس عراقچی کے دورہ اسلام آباد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حالیہ علاقائی دوروں اور مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ حالیہ پیش رفت پر مشاورت اور ثالثی کیلئے اسلام آباد کی کوششوں کے بارے میںآگاہ کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی مختصر وفد کےہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔ ملاقات میں پاک ایران تعلقات، سیکورٹی اور باہمی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں قومی سلامتی کے امور اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کا یہ پہلا اہم ورکنگ سیشن تھا، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی و سفارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا گیا۔ فریقین نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ کیلئے مستقبل میں بھی مشاورت کا عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔دریں اثناء امریکی صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنرکا دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔ گزشتہ دنوں امریکی صدر نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مبنی دو رکنی امریکی وفد اسلام آباد بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ امریکی وفد آج پاکستان کیلئے روانہ ہونا تھا تاہم اب امریکی میڈیا سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے دورہ اسلام آباد منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وٹکوف اور کشنرکا دورہ پاکستان منسوخ کردیا۔ ان کا کہنا تھاکہ اس جنگ میں تمام کارڈز امریکا کےپاس ہیں، ایرانی جب چاہیں کسی بھی وقت امریکا سے بات کرسکتے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا تھاکہ جب تمام کارڈز ہمارے پاس ہیں تو ایران کے ساتھ مذاکرات کیلئے 18 گھنٹے کا طویل سفر کرنا فائدہ مند نہیں، امریکی وفد 18 گھنٹے کی پرواز سے وہاں جاکربےمقصد باتوں کیلئے نہیں بیٹھے گا۔دریں اثناء بی بی سی کے امریکی شراکت دار ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق پاکستانی حکام کو توقع ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اتوار یا پیر کو دوبارہ اسلام آباد آئیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عباس عراقچی اسلام آباد سے روانہ ہونے کے بعد اسوقت عمان کے دارالحکومت مسقط کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ دریں اثناء ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے تین ملکی سفارتی دورے کے دوسرے مرحلے میں عمان پہنچ چکے ہیں، جس میں انکے پاس پاکستان اور امریکا دونوں کیلئے پیغامات موجود ہیں۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے ذکر کیا کہ انہوں نے گزشتہ ایک دن کے دوران ’’پاکستان کا انتہائی نتیجہ خیز دورہ‘‘ کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ ’’ہم خطے میں امن کی بحالی کیلئے پاکستان کی برادرانہ کوششوں کی بہت قدر کرتے ہیں‘‘۔ انہوں نے مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل کرنے کی واشنگٹن کی کوششوں میں خلوص پر بھی شک کا اظہار کیا۔ عراقچی نے لکھا، ’’ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا امریکا واقعی سفارت کاری کے بارے میں سنجیدہ ہے۔‘‘ دریں اثناء ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے ارنا کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان کے دورے کے بعد روس جانے سے پہلے ایک بار پھر پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے ارنا نے کہا ہے کہ ایرانی وفد کا ایک حصہ جنگ کے خاتمے سے متعلق ضروری امور پر مشاورت کے لیے تہران واپس لوٹ گیا ہے۔ ارنا کے مطابق وفد کے ارکان اتوار کی شب دوبارہ اسلام آباد میں عباس عراقچی کے ساتھ شامل ہوں گے۔ تاہم رپورٹ میں واضح طور پر یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کن امور پر بات چیت کریں گے یا کن شخصیات سے ملاقات متوقع ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہفتہ کے روز ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔تقریباً پچاس منٹ تک جاری رہنے والی اس گرمجوش اور دوستانہ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے جاری کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماؤں کا قریبی مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے 11 اور 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقدہ مذاکرات میں ایرانی اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کو سراہا۔