• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کو در پیش حالیہ توانائی بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ ملک کا حد سے زیادہ انحصار درآمدی تیل پر ہے۔ میں بتاتا چلوں کہ پاکستان میں بجلی کئی طریقوں سے پیدا کی جاتی ہے جس کیلئے ایل این جی، ہیڈرو پاور، فرنس آئل، فوسل فیول، کوئلہ، ہوا، سولر اور بائیو گیس سمیت دیگر وسائل استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس میں سے 46 فیصد بجلی پاکستان کے مقامی وسائل کو استعمال کرتے ہوئے بنائی جاتی ہے جبکہ 54 فیصد کیلئے گیس،تیل اور کوئلہ دوسرے ممالک سے درآمد کیاجاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اپریل کے مہینے میں لوڈ شیڈنگ کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع کے بیچ پاکستان میں درآمدی ایل این جی کی سپلائی میں پڑنے والی مبینہ رکاوٹ ہے۔حکومت مہنگی بجلی پیدانہیں کر رہی جسکی وجہ سے یہ طلب پوری نہیں ہورہی۔آنے والے دنوں میں اگر بجلی کا یہ شارٹ فال مزید بڑھا تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر چہ حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ پیک آورز میں 2سے ڈھائی گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے مگر حقیقت میں بجلی اس سے کہیں زیادہ جا رہی ہے۔موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ توانائی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے۔آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ لوگ اے سی کا استعمال بھی زیادہ کر دیں گے اور بجلی کی طلب میں نمایا ں اضافہ ہوگا۔

اس مسئلے کے حل کیلئے حکومت کو شمسی توانائی، ہوا اور ہائیڈروپاور جیسے سستے اور مقامی ذرائع کو ترجیح دینا چاہئے تھا لیکن اس کے بجائے حکومت نے سولر لگانے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے سولر لگانے والوں کو بھی ٹیکسو ں کے شکنجے میں جکڑنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے لوگوں نے سولر لگوانا بند یا کم کردئیے اور اس طرح بجلی کی طلب میں مزید اضافہ ہوا۔پاکستان میں توانائی کا بحران کسی اچانک آنے والے طوفان کی طرح نہیں ہے بلکہ آہستہ آہستہ پھیلنے والی دیمک ہے جو معیشت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہے،کارخانے بند ہوتے چلے جا رہے ہیں، مزدور بیروزگار ہوتے چلے جا رہے ہیں اورگھروں میں چولہے ٹھنڈے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ قدرت نے پاکستان کو ایک انمول، لامحدو د خزانہ دیا ہے وہ سورج ہے جو بلامعاوضہ اپنے جواہر لٹائے چلا جا رہا ہے لیکن ارباب حکومت نے اسے نہ صرف نظر انداز کر رکھا ہے بلکہ اس کی حوصلہ شکنی شروع کر دی ہے۔ آج کی دنیا میں جنگ تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جا رہی ہے۔ ارباب حکومت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ پاکستان کیلئے سولر انرجی اب ترجیح یا انتخاب کا معاملہ نہیں رہا بلکہ مجبوری بن چکا ہے کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے مجموعی درآمدی بل کا تقرییاً ایک تہائی حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے جو بیرونی ادائیگیوں کے توازن پر سب سے بڑا دباؤ ہے اگر تیل پر ہی انحصاربرقرار رکھا گیا تو اس دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا جو زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی کا سبب بنے گا۔ اس صورتحال میں حکومت کو گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر پینلز کی تنصیب کی حوصلہ افزائی کیلئے واضح پالیسی بنانی چاہئے بجلی بنانے کیلئے سولر لگانے والوں کو بلاسود آسان شرح پر قرضوں کی فراہمی کے علاوہ دیگر ترغیبات دینے پر غور کرنا چاہئے۔حکومت کو یہ سمجھنا چاہئے کہ پاکستان میں توانائی کا یہ بحران محض بجلی کی کمی نہیں بلکہ پالیسیوں کی کمزوری اور ترجیحات کی شکست کا آئینہ ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں نے تیل کی غلامی سے آزادی حاصل کر لی ہے۔انہوں نے سورج،ہوا اور پانی کو اپنا ساتھی بنالیا ہے۔ پاکستان میں کئی عشرے قبل ہی ایسے محسنوں نے ان دنوں کا ادراک کر لیا تھا جب وہ چین سے سولر ٹیکنالوجی لیکر آئے اور قوم کو سورج سے نظریں ملانے کا ہنر سکھانے لگے۔ اگر حکومت اور سولر پینلز کے پرانے تجربہ کار مخلص تاجر ملکر کام کریں تو ہر گھرپر سولر پینل نصب کیا جا سکتا ہے۔بجلی کی قیمت آدھی سے بھی کم ہو کر رہ جائے گی اور معیشت کو ایک نئی زندگی ملےگی ہاں ایک نقصان ضرور ہوگا اور وہ یہ کہ تیل اور ڈیزل سے بجلی تیار کرنے والے نجی اداروں کی آمدنی میں کمی ہو جائے گی اور اس کے ساتھ ہی ان اداروں میں بالا دست طبقات اور ان کے عزیز و اقارب کے لگائے ہوئے سرمائے سے انہیں حاصل ہونیوالے منافع کا دروازہ بند ہوجائے گا۔تاہم حکمرانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ وقت آگیا ہے کہ صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہ لیا جائے بلکہ سولر انقلاب کے ذریعے سورج کی روشنی کو چھت پر اتاراجائے۔

ایک طرف حکومت بجلی کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام ہو رہی ہے تو دوسری جانب نرخوں میں اضافے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ حکومت اگر صارفین کو سہولت نہیں دے سکتی تو کم ازکم ان کا بوجھ تو نہ بڑھائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے،محض اعلانات اور یقین دہانیوں سے کام نہیں چلے گا۔ہر حکومت کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔بجلی،گیس اور اشیائے ضروریہ کی کم نرخوں پر مسلسل فراہمی عیاشی نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ حکومت بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے شیڈول کو شفاف بنائے،بلوں میں ناجائز ٹیکسوں اور فکسڈ چارجز کا بوجھ کم کرے،پیٹرولیم نرخوں پر نظر ثانی کرے اور عوامی مفادات کا تحفظ کرے۔ایسا نہ ہو کہ عوامی بے چینی ایسے احتجاج کی شکل اختیار کرلے جس پر قابو پانا حکومت کے بس میںنہ رہے۔

تازہ ترین