کراچی (اسد ابن حسن) 11اپریل کو صومالیہ کی بحری گزرگاہ سے بحری قزاقوں کے ہاتھوں آئل ٹینکر "Honour 25" پر قبضہ کرنے اور جہاز کے عملے کو یرغمال بنا کر تاوان طلب کرنے کا مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ وزارت خارجہ اور میری ٹائم افیئر کے اعلیٰ حکام صومالیہ کے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ بحری جہاز کے اغوا کا واقعہ 21 اپریل کو پیش آیا جس پر 11پاکستانی کریو ممبر اور انڈونیشین کپتان موجود تھے، ان سب کو یرغمال بنا کر 70 لاکھ ڈالر تاوان کی ڈیمانڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بحری قزاق پاکستانیوں کی فیملیز سے ان کے پیاروں کی روزانہ بات کرواتے ہیں اور ساتھ ہی بے انتہا تشدد بھی کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ بحری قزاق کئی برسوں سے بحری جہازوں کے عملے کو یرغمال بنا کر تاوان وصول کرتے رہے ہیں اور ماضی میں بھی ایک بحری جہاز پر موجود گروپ کو اغوا کیا گیا تھا اور حکومتی اور این جی اوز کی کوششوں سے اغوا کاروں کو تاوان ادا کرکے ان کی واپسی ممکن ہو سکی تھی۔ اس مرتبہ بھی اغوا ہونے والے پاکستانیوں کی فیملیز ایک این جی او کے دفتر پر پہنچی اور اس سلسلے میں مدد کی درخواست کی ہے۔