پشاور(ارشد عزیز ملک ) پشاور ہائی کورٹ کے احکامات اور خیبر پختونخوا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات کے باوجود یونیورسٹی آف ہری پور میں تدریسی فیکلٹی اضافی چارج کی بنیاد پر اہم انتظامی عہدوں پر کام کررہی ہے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یونیورسٹی آف ہری پور میں متعدد فیکلٹی ارکان تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اضافی چارج کی بنیاد پر انتظامی عہدوں پر بھی فائز ہیں، باوجود اس کے کہ پشاور ہائی کورٹ اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں۔گریڈ18سے21کے 22 فیکلٹی ارکان قانونی اور انتظامی عہدوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہیں، کے پی یونیورسٹیز ایکٹ کی خلاف ورزی کی جارہی ہے،سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی ایس اٹھارہ (لیکچرر) سے لے کر بی ایس اکیس (پروفیسر) تک کے متعدد فیکلٹی ممبران امتحانات کے کنٹرولر، ڈائریکٹر ورکس، ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ڈائریکٹر کیریئر ڈیولپمنٹ سینٹر، ایڈیشنل ڈائریکٹر یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ سیل، ڈائریکٹر اورک، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف اے ڈی، ڈائریکٹر کیو ای سی، ڈائریکٹر اورک، ڈائریکٹر اے ایس آر بی، ڈائریکٹر اکیڈمکس، ڈائریکٹر یونیورسٹی ایڈوانسمنٹ سیل، چیف پروکٹر، ڈائریکٹر آئی ٹی سروسز، ڈائریکٹر ایڈمیشنز، بین الاقوامی طلبہ کے فوکل پرسن، ایڈیشنل ڈائریکٹر اورک، ریزیڈنٹ وارڈن، سینئر وارڈن، ڈائریکٹر اسپورٹس اور ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی جیسے انتظامی عہدوں کا اضافی چارج سنبھالے ہوئے ہیں۔