• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جوڈیشل کمیشن اجلاس آج، پی پی ججز کے 2 تبادلوں پر محتاط مگر سب کے حق میں ووٹ دے سکتی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ جج کا چیف جسٹس پاکستان کو خط

انصار عباسی

اسلام آباد :…اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے پانچ ججوں کے مجوزہ تبادلوں پر آج پاکستان کے جوڈیشل کمیشن (جے سی پی) کے اجلاس میں غور کیا جائے گا، اور اشارے مل رہے ہیں کہ اندرونی تحفظات کے باوجود سیاسی عوامل نتیجے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ پاکستانپیپلز پارٹی (پی پی پی) نے دو ججوں کے تبادلوں پر مخالفت کا اظہار کیا ہے، لیکن امکان ہے کہ جب یہ معاملہ کمیشن میں ووٹنگ کے لیے پیش ہوگا تو وہ تمام مجوزہ تبادلوں کی حمایت کرے گی۔ ذرائع کے مطابق جے سی پی میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے حکومت کے بعض ارکان کے ساتھ ایک جج کو سندھ ہائی کورٹ اور دوسرے کو بلوچستان ہائی کورٹ بھیجے جانے کی تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کو یقین ہے کہ ووٹنگ کے دوران پیپلز پارٹی کے نمائندے بالآخر حکومت کا ساتھ دیں گے۔ ایک متعلقہ پیش رفت میں پیر کو جے سی پی اجلاس سے ایک روز قبل، آئی ایچ سی کے ان ججوں میں سے ایک، جن کا تبادلہ زیر غور ہے، نے مبینہ طور پر چیف جسٹس پاکستان کو ایک خط لکھا۔ خط کے مندرجات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہ ہو سکی۔ یہ پیش رفت ایک پہلے سے متنازع تجویز کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس نے اب ایک نئی صورت اختیار کر لی ہے۔ جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا، زیر غور منصوبے میں شامل ہے کہ منتقل کیے جانے والے ججوں کو متعلقہ ہائی کورٹس کی مرکزی نشستوں کے بجائے ان کے علاقائی بنچوں میں تعینات کیا جائے۔ ذرائع نے کہا کہ کمیشن ججوں کو مختلف ہائی کورٹس میں منتقل کرے گا، جہاں سے انہیں علاقائی بنچوں میں بھیجا جائے گا۔ جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ میں تبادلے کے لیے تجویز کردہ ایک جج کو غالباً ملتان یا بہاولپور بنچ میں تعینات کیا جائے گا۔ اسی طرح ایک اور جج، جس کے پشاور ہائی کورٹ میں تبادلے پر غور ہو رہا ہے، کو متوقع طور پر اس کے بنوں بنچ میں تعینات کیا جائے گا۔ مجوزہ فہرست میں شامل دیگر ججوں کو بھی اگر یہ تبادلے عمل میں آتے ہیں تو دور دراز بنچوں میں تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ اس تجویز نے عدالتی اور قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ حتیٰ کہ چیف جسٹس پاکستان نے بھی اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے عدالتی آزادی متاثر ہو سکتی ہے اور ایک نامناسب مثال قائم ہو سکتی ہے۔ یہ تجویز آئی ایچ سی کے چیف جسٹس کی جانب سے سامنے آئی، جنہوں نے اس معاملے پر غور کے لیے جے سی پی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کی تھی۔ اگرچہ چیف جسٹس پاکستان نے خود اجلاس بلانے سے انکار کر دیا تھا، تاہم جے سی پی کے سیکریٹری نے کمیشن کے پانچ ارکان کی درخواست پر 28 اپریل کے لیے اجلاس طلب کر لیا۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر ، جو جے سی پی کے رکن ہیں، سے پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی کو بعض ہائی کورٹ ججوں کے تبادلوں پر تحفظات ہیں۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا پیپلز پارٹی ایک جج کو سندھ ہائی کورٹ اور دوسرے کو بلوچستان ہائی کورٹ بھیجے جانے کی مخالف ہے۔ سینیٹر نائیک تبصرے کے لیے دستیاب نہ ہو سکے۔

اہم خبریں سے مزید