کراچی(نیوز ڈیسک)ایران امریکا جنگ، 2 برادر اسلامی ممالک کیوں آمنے سامنے آگئے؟نقدی بحران، علاقائی سفارت کاری اور خلیجی سیاست کے باہمی تصادم کے نازک لمحے میں دو برادر اسلامی ممالک کیوں ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ مشرق وسطی کے ایک ملک نے جو دنیا بھر میں بزنس حب اور سیاحت کے فروغ کے سلسلے میں پہچانا جاتا ہے۔ اس خلیجی ملک نے بر صغیر کے ایک ملک سے قرض کی واپسی کا تقاضا کیا تو برصغیر کے اس ملک کو ایک غیر متوقع مالی دھچکا برداشت کرنا پڑا۔ یہ پیش رفت نہ صرف اس ملک کے زرِ مبادلہ ذخائر کے لیے خطرہ بنی بلکہ اس کے ثالثی کردار کو بھی براہِ راست متاثر کرنے لگی۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ایسے وقت میں جب وہ ملک شدید مالی دباؤ کا شکار تھا اور سفارتی سطح پر ثالثی کی کوششیں کر رہا تھا، اپنے دیرینہ اتحادی سے رقم کی فوری واپسی کا مطالبے نے برصغیر کے اس ملک کے معاشی اور سفارتی توازن کو بیک وقت چیلنج کر دیا۔خلیجی ملک کی درخواست نے قرض دہندہ ملک کے مرکزی بینک کے ذخائر کے تقریباً پانچویں حصے کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا کیا، جبکہ قرض دیتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ 2027 میں برصغیر کے اس ملک کے پروگرام کے ختم ہونے تک ادائیگی نہیں مانگے گا، جو بیل آؤٹ کی منظوری کے لیے ایک شرط تھی۔ اس تناظر میں مشرق وسطی کے ایک بڑے ملک نے برصغیر کے اس ملک کو متبادل قرض کے نئے ذخائر فراہم کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، دنیا کا بزنس حب سمجھے جانے والے اس خلیجی ملک کا یہ اقدام محض مالی فیصلہ نہیں بلکہ بر صغیر کے اس ملک کی حالیہ امریکہ ایران تنازع میں ثالثی کی بڑھتی ہوئی کوششوں پر مایوسی کا مظہر ہے۔ اس مایوسی کی بنیادی وجوہات میں برصغیر کے اس ملک کے ایک بڑے خلیجی ملک کے ساتھ گہرے ہوتے تعلقات اور ایران پر حملوں کے بعد خلیجی ریاستوں کے خلاف ایرانی ردعمل پر اس ملک کا محتاط یا نسبتاً نرم مؤقف شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی جنگ میں برصغیر کے اس ملک کی ثالثی کی کوششیں خلیج کا بزنس حب سمجھے جانے والے ملک کو اس لیے قابلِ قبول نہیں رہیں کیونکہ وہ اس تنازع کو دوٹوک زاویے سے دیکھتا ہے، جہاں غیر جانبداری یا درمیانی راستے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔