سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کے معاملے پر تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نہایت تشویش اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔
انہوں نےاسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں پر ہونے والے جوڈیشل کمیشن کے اجلاس پر اظہارِ خیال کیا ہے۔
اسد قیصر کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز ججز نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا، ججز نے ہمیشہ انصاف کی فراہمی کے اصولوں کو مقدم رکھا۔
انہوں نے کہا کہ ججز کا ٹرانسفر عدلیہ کی آزادی پر منظم حملہ ہے، یہ ایک ایسے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جو انصاف کے نظام کو کمزور کر رہا ہے، تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے۔
سیکریٹری جنرل تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان نے کہا ہے کہ ہم اسے عدلیہ کی خود مختاری کے منافی قرار دیتے ہیں، ججز کے ٹرانسفر کا یہ طریقۂ کار انصاف کی غیر جانبداری ہے جو عوام کے اعتماد کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے عدلیہ کو انتظامیہ کے لیول پر لایا جائے گا، جہاں سرکاری ملازمین کی طرح آزاد منش ججز کے تبادلے کیے جائیں گے۔
اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ بار کونسلز اور وکلاء تنظیمیں اس اقدام کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کریں۔