کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے شہری سخی الرحمٰن کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے بعد مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے انکشاف پر ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیدیا، ہائی کورٹ میں چرس برآمدگی کے مقدمے میں گرفتار ملزم ساجد کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے ملزم کے بھائی سخی الرحمٰن کی شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے بعد مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کا انکشاف کیا، وکیل نے کہا کہ ایس آئی یو نے سخی الرحمٰن کو نارتھ ناظم آباد میں واقع گھر سے اٹھایا ، اہلکار گھر سے ایس یو وی گاڑی اور 27 لاکھ روپے بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔ ایس ایچ او ایس آئی یو نے سخی الرحمٰن کی رہائی کے لئے بھائی ساجد سے 30لاکھ روپے تاوان طلب کیا، ملزم ساجد ادائیگی کے لئے ائیرپورٹ پہنچا تو اسے بھی حراست میں لے لیا گیا، ایس آئی یو اہلکاروں نے ملزم ساجد کے بینک اکاؤنٹس سے 12لاکھ 90 ہزار روپے منتقل کئے، پولیس اہلکار ملزم کے شو روم سے 3گاڑیاں بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔