پشاور ( لیڈی رپورٹر)خیبر پختون خوا حکومت صوبے میں ایک ماہ سے جاری سی این جی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر ایگزیکٹیو ارڈر جاری کرے ۔ اس وقت سی این جی بحران کی وجہ سے جہاں صوبے کے 600 سی این جی اسٹیشنز بند ہیں اورہزارو ں افرا د بےروز گا ر ہوگئے اور لوگوں کے گھروں میں فاقوں نے ڈیرے ڈال دیے ہیں اور عوام سستی ترین سی این جی سے محروم ہیں جو ہمارے صوبے کی ہی پیدا کردہ سستا ترین لیکوڈ فیوڈ ہے ان خیالات کا اظہار ال پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن خیبر پختون خواہ زون کے چیئرمین الحاج پرویز خٹک نے پشاور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ سپین وارم، شییوا ون، اور دیگر پائپ لائنوں کی درستگی کے بعد سی این جی بحال ہونی چاہیے تھی۔ لیکن اس کے باوجود اج تک سی این جی اسٹیشن کو سی این جی بحال نہیں کی جا رہی مرکز اپنی من مانی کر رہا ہے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم کر رہا ہے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ اس وقت تقریبا چار لاکھ گاڑیاں روزانہ سی این جی استعمال کر رہی ہیں اور یہ سستا ترین ذریعہ ہے اس کے ذریعے سے عوام کو محروم نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سی این جی سیکٹر 15 لاکھ لٹر پٹرولیم مصنوعات تک کی بچت دے رہا ہے اور سی این جی اسٹیشنز بند کر کے خیبر پختون خواہ کے عوام کا اور سی این جی اسٹیشن کا معاشی قتل عام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ بھی آرڈر جاری کر چکا ہے کہ سی این جی اسٹیشنز کو سی این جی بحال کی جائے لیکن عدالتی احکامات کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ ۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی این جی دو روز میں بحال نہیں ہوتی تو پشاور میں احتجاجی تحریک کا اغاز کریں گے جس میں صوبے بھر سے ٹرانسپورٹر اور سی این جی میں انویسٹمنٹ کرنے والے افراد اور عام عوام بھی شامل ہوں گے۔