• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیوایس رینکنگ، 18 جامعات میں کے پی کی صرف ایک یونی ورسٹی شامل، چیئر میں ایچ ای سی کا اظہار تشویش

پشاور (خصوصی نامہ نگار) اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مزید مضبوط، مربوط اور عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لئے ایک اہم پیش رفت کے طور پر خیبر پختونخوا کی پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز جامعات کے وائس چانسلرز اور ریکٹرز کامشترکہ اجلاس اور دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں کے ایوارڈ یافتگان کے اعزاز میں ریسرچ ایکسیلنس ایوارڈکی تقریب خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاور میں منعقد ہوئی تقریب کا مقصد اعلیٰ تعلیمی قیادت، پالیسی سازوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی ترقی کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینا تھا ۔اس موقع پر وزیر برائے اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا مینا خان آفریدی مہمان خصوصی تھے، چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اخترنے بطور اعزازی مہمان شرکت کی۔ڈاکٹر محمد اسرار خان سیکرٹری اعلیٰ تعلیم خیبر پختونخوا اور پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی کے علاوہ سابق ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اور ممبر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر سہیل نقوی بھی موجود تھے۔اجلاس میں ایچ ای سی کے تمام ڈویژنز کے سربراہان نے خیبر پختونخوا میں ایچ ای سی کی نگرانی میں جاری اکیڈیمک، ریسرچ، سکالرشپس، کوالٹی ایشورنس ، اینوویشن ، آئی ٹی اور کمرشلائزیشن کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔استقبالیہ کلمات میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے صوبے کی جامعات کو عالمی معیار تک لے جانے کے لئے ادارہ جاتی ہم آہنگی، جدید پالیسی سازی اور مؤثر قیادت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دن اس حوالے خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ صوبے کی تمام جامعات کے وائس چانسلرز ایک چھت تلے اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ صوبے کی جامعات اور ہائر ایجوکیشن سیکٹر کو درپیش مسائل اور چیلنجز کا کوئی قابل عمل حل تجویز کر سکیں۔سیکرٹری اعلیٰ تعلیم ڈاکٹر محمد اسرار خان نے جاری اصلاحات، گورننس ماڈلز اور مستقبل کی ترجیحات پر جامع بریفنگ دی، جبکہ پروفیسر ڈاکٹر صادق خٹک وائس چانسلریو ای ٹی پشاو راور چیئرمین کے پی وائس چانسلرز فورم نے باہمی تعاون، احتساب اور جدت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیازاحمد اختر نے کہا کہ ملک بھر میں کیو ایس رینکنگ میں 18 جامعات میں کے پی کی صرف ایک یونیورسٹی شامل ہے جو ایک قابل توجہ امر ہے۔ انہوں نے کہا کہ البتہ یہ بات باعث اطمینان ہے کہ کے پی کی جامعات مالی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہونے کے باوجود ملک بھر کی جامعات کی 50 فیصد شرح کے برعکس یہاں پی ایچ ڈی فیکلٹی کی شرح 53 فیصد ہے جو ملک کے باقی تمام صوبوں کی نسبت زیادہ ہے ، اعلیٰ تعلیم کے صوبائی ٹاسک فورس کی صوبائی کابینہ سے منظوری جلد متوقع ہےجس کے تحت 12 انڈیکیٹرز کو پرفارمنس گرانٹس سے منسلک کیا جائے گا اور وائس چانسلرز کی ہر دو سال بعد کارکردگی جانچی جائے گی۔ اس کے ساتھ ڈینز کے معیار میں بہتری اور قوانین میں ترامیم پر بھی غور جاری ہے۔مینا خان آفریدی نے زور دیا کہ تحقیق کو معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے انڈومنٹ فنڈ کو 2.1 سے بڑھا کر 5.2 ارب کرنے کے علاوہ سال اول اور سال دوم کی طالبات نیز تمام یتیم بچوں کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ اگلے سال سے تمام گریجویٹس کو پیڈ انٹرن شپ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس میں دنیا کے ٹاپ 2 فیصد سائنسدانوں میں کے پی جامعات کے 216 ریسرچرز اور سائنسدانوں کو چیئرمین ایچ ای سی اور صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم نے خصوصی اعزازات سے نوازا۔ صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم مینا خان آفریدی اور چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیازاحمد اختر نے سیکرٹری ایچ ای ڈی ڈاکٹر محمد اسرار خان اور ای ڈی ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کے ہمراہ کے ایم یو ہسپتال میں اینڈوسکوپی سوٹ کے علاوہ کے ایم یو اسلامک سینٹ اور مسجد کا مشترکہ طور پر افتتاح بھی کیا۔
پشاور سے مزید