• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا آغاز

پشاور(جنگ نیوز) سباوون اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور کے مشترکہ تعاون سے خیبر پختونخوا کے چھوٹے کسانوں کے لیے دودھ کی پیداوار بڑھا نے اور فیڈ کے اخراجات کم کرنے کے منصوبے پرتیزی سے کام کیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ ویٹرنری سہولیات، مہارتوں اور چارے کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کر رہا ہے۔اس سلسلے میں زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد خان اور SABAWON کےڈاکٹر اویس اخونزادہ کی قیادت میں منصوبے کے تحت لائیو سٹاک اتھارٹی کے ساتھ مل کر خیبر اور پشاور اضلاع کے ویٹرنری اسٹیشنز کو اپ گریڈ کیا گیا۔ عملے کو دوبارہ تربیت دی گئی اور اے آئی کٹس، کولڈ چین سسٹم اور ویکسین فراہم کی گئیں۔ ایک مفاہمتی یادداشت کے تحت آپریشنل اخراجات اب اتھارٹی کے بجٹ کا حصہ ہیں۔محکمہ لائیوسٹاک کے تربیتی مرکزAHITIسے تربیت یافتہ 24 کمیونٹی لائیو سٹاک ایکسٹینشن ورکرز گاؤں کی سطح پر ویکسینیشن، ڈی ورمنگ اور ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔ تین سو کسانوں کو جانور پالنے، خوراک اور ڈیری پروسیسنگ کی تربیت دی گئی، جبکہ 200 کو آلات کی کٹس دی گئیں۔فارموں پر دو چارہ فصلوں— لوسرن اور رائی گراس کی کامیاب آزمائش کی گئی۔ جس کے تحت لوسرن-مکئی سائیلج سے دودھ 2.4 لیٹر فی گائے یومیہ بڑھا۔ رائی گراس سائیلج سے بچھڑوں کا وزن یومیہ 318 گرام تک بڑھا اور ونڈے کا استعمال کم ہوا۔اس کامیاب منصوبے کے تحت دس کسان گروپ اب شمسی ریفریجریشن سے دودھ کی اجتماعی فروخت کر رہے ہیں۔ 20 ویکسینیشن/اے آئی مہمات1200کسانوں تک پہنچیں۔سالوں میں پہلی بار جانوروں کا سردیوں میں وزن کم نہیں ہوا۔ واحد گڑھی کے رحیم خان نے کہاکہ ماہرین کے مطابق اسے بڑے پیمانے پر اپنانے سے وادی پشاور میں چارے کی قلت 70سے 80فیصد کم ہو سکتی ہے۔
پشاور سے مزید