• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران خان دور میں بجلی 15 روپے یونٹ مگر آج 40 روپے سے تجاوز کرگئی، وزیر قانون

پشاور(سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اپوزیشن کے اعتراضات کا دوٹوک اور جارحانہ انداز میں جواب دیتے ہوئے وفاقی پالیسیوں، توانائی بحران اور مہنگائی پر شدید تنقید کی انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں بجلی کا فی یونٹ تقریبا 15 روپے تھا لیکن آج یہ قیمت 40 روپے سے تجاوز کر چکی ہے جس کی ذمہ داری آئی پی پیز پر ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں بے لگام ہو چکی ہیں اور ان کے مفادات سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیںانہوں نے 1972 کے بعد کوئی بڑا ڈیم نہ بنائے جانے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے دور میں 55 سال بعد 10 بڑے ڈیمز پر کام شروع کیا گیا جو سستی اور ماحول دوست ہائیڈرو پاور پیدا کر سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤ ں کے مفادات آئی پی پیز کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہ معاہدے عوام کے مفاد کے برعکس ہیں خاص طور پر آر ایل این جی کے معاہدے جو عوامی مفاد کے خلاف ہیں اور عوام کی ہڈیوں سے کھیلنے کے مترادف ہیںپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر قیمتوں میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہوا، لیکن پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ اضافہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران جب عالمی قیمت 118 ڈالر فی بیرل تک پہنچی تھی عمران خان کی حکومت نے صرف 12 روپے اضافہ کیا مگر آج عالمی قیمت 82 ڈالر فی بیرل ہونے کے باوجود قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے اور اس پر سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش ہیںآفتاب عالم نے خیبرپختونخوا کی گیس پیداوار پر بھی بات کی اور کہا کہ صوبہ روزانہ تقریبا 550 ملین کیوبک فٹ گیس پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت صرف 140 ملین کیوبک فٹ ہے اس کے باوجود صوبے کی 60 فیصد آبادی گیس سے محروم ہے انہوں نے آئین کے آرٹیکل 158 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیداواری صوبے کو پہلا حق حاصل ہے لیکن اس حق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے انہوں نے خیبرپختونخوا کے 5ہزار ارب روپے سے زائد بقایاجات کا ذکر کیا اور وفاقی حکومت کے رویے کو سوتیلی ماںجیسا قرار دیا انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا سستی ترین بجلی پیدا کرتا ہے لیکن اس سے دوسرے صوبوں کی صنعتیں چل رہی ہیں جبکہ خود صوبہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
پشاور سے مزید