انصار عباسی
اسلام آباد :…اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججوں کے مجوزہ تبادلے کے معاملے میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو منگل کے دن اس وقت جزوی دھچکا لگا جب پیپلز پارٹی کے دباؤ کی وجہ سے دو ججوں کا ٹرانسفر فی الحال نہیں کیا گیا۔ ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ حکومتی اقدام میں پیپلز پارٹی کی مداخلت کی وجہ سے جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس ارباب ایم طاہر کے نام کم از کم فی الحال کیلئے ٹرانسفر کی فہرست سے خارج کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق، صدر آصف علی زرداری کی واپسی پر اس معاملے کو دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان دونوں ججوں کے تبادلے پر مستقبل قریب میں دوبارہ غور کیا جائے۔ یہ پیش رفت حکومت کے اندر سے آنے والے اُن سابقہ اشاروں کے برعکس ہے جن کے مطابق پیپلز پارٹی کو اپنے تحفظات کے باوجود بالآخر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں تمام مجوزہ تبادلوں کی حمایت کرنا تھی۔ اس سے قبل، ذرائع نے بتایا تھا کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان میں پیپلز پارٹی کے ارکان نے جسٹس خادم حسین سومرو کو سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس ارباب ایم طاہر کو بلوچستان ہائی کورٹ میں تعینات کرنے کی تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، تاہم حکومتی ذرائع کو ووٹنگ کے وقت ان کی حمایت حاصل ہونے کا یقین تھا۔