• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک آسٹریا ِانسٹی ٹیوٹ ہری پور میں 10 سال سےپراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی کا معمہ

پشاور(ارشد عزیز ملک) خیبر پختونخوا کے ایک سرکاری ڈگری ایوارڈ کرنیوالے ادارے، پاک- آسٹریا فاخوشولےانسٹی ٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں گزشتہ 10سال سے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی مسلسل تعیناتی ایک معمہ بن گئی ہے، حالانکہ یہ ادارہ کئی سال پہلے مکمل ہو چکا ہے۔ 2021میں محکمہ اعلیٰ تعلیم کی سمری میں ریکٹر کی تقرری کے بعد پی ڈی کو ہٹانے کی سفارش کی گئی، سمری وزیر اعلیٰ اور گورنرنے منظور کیا،اعلامیہ جاری نہ ہوسکا ،ناصر خان 2016 میں عارضی پی ڈی بنے، جنوری 2019 میں دو سالہ کنٹریکٹ مکمل ہونے پربھی کام کرتے رہے،بعد میں یونیورسٹی کے پے رول پر آگئے،ناصر خان کا کہنا ہے کہ پی ڈی سمیت 26 افرادکو یونیورسٹی کے باقاعدہ پے رول پر منتقل کیا گیا، ادارے کا پی سی ون توسیع کے لیے زیر غور ہےسمری غلط فہمی کا نتیجہ تھی،ادارے میں شمولیت سے متعلق چند سوالات ادارے کے ریکٹر کو ارسال، ریکٹر محمد مجاہد نے کہا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کا بیان ہی ادارے کا باضابطہ مؤقف ہے۔تفصیلات کے مطابق ریکٹر کی تقرری کے بعد بھی پراجیکٹ ڈائریکٹر کو نہ صرف برقرار رکھا گیا بلکہ اسی عہدے پر بھاری تنخواہ کے ساتھ ادارے میں ایڈجسٹ بھی کیا گیا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی ایک سمری بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں پاک-آسٹریا فاخوشولے انسٹی ٹیوٹ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر، ناصر خان، کو عہدے سے ہٹانے کی باقاعدہ منظوری ظاہر کی گئی ہے۔ تاہم حیران کن طور پر اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں ان کے یونیورسٹی میں جذب کیے جانے کا انکشاف اس معاملے کو مزید مشکوک بنا رہا ہے۔۔ ذرائع کا مبینہ طورپر دعویٰ ہے کہ وہ ماہانہ بھاری تنخواہ لے رہے ہیںیونیورسٹی کئی مرتبہ مختلف منصوبوں کےلئے پی سی ون بھجواچکی ہے جن کی حکومت نے اب تک کوئی منظوری نہیں ذرائع کے مطابق ادارے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کی کوئی باقاعدہ منظور شدہ آسامی بھی موجود نہیں تھی۔

اہم خبریں سے مزید