تہران، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) ایران نے کہا ہے کہ امریکا کیساتھ نئی جنگ کے امکانات موجود ہیں ، پاسدارانِ انقلاب کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے نائب انسپکٹر محمد جعفر اسدی نےکہا ہے کہ شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکا کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں رہتا،امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے دوران ایک بحری جہاز پر قبضے کی فوجی کارروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحریہ "قزاقوں" کی طرح کام کر رہی ہے،ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے امریکا جلد بازی میں پیچھے نہیں ہٹے گا، ایسا کرنے سے مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ گیند اب امریکا کے کورٹ میں ہے ، ہم مذاکرات اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہیں ،پاسدارانِ انقلاب کی بحری کمانڈ نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب سے محفوظ گزر گاہ کے لئے نئے قوانین وضع کیے ہیں، ان نئے قواعد کے مطابق کسی بھی ایسے جہاز کو وہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اسلحہ یا امریکی فوجی اڈوں کے لئے سامان لے جا رہا ہو،ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی کا کہنا ہے کہ ایک نیا قانون اسرائیلی بحری جہازوں کو کسی بھی وقت آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روک دے گا، ان کے مطابق یہ مجوزہ قانون دشمن ممالک کے جہازوں کو اس وقت تک آبنائے سے گزرنے سے روکے گا جب تک وہ ممالک جنگی ہرجانہ ادا نہیں کر دیتے،یہ بل دیگر بحری جہازوں کو ایران سے اجازت اور منظوری حاصل کرنے کے بعد وہاں سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے،آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک اب دوبارہ اس صورتحال پر نہیں آئے گی جو جنگ سے پہلے تھی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 20 دنوں میں "آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لئے 48 بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کیا گیا ہے"،امریکا نےایران جنگ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان اختلافات کے بعد جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کردیا ہے ، پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حکم وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے دیا گیا ہے، یہ فیصلہ یورپ میں امریکی افواج کی تعیناتی سے متعلق محکمے کے جامع جائزے اورخطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے ، ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ یہ انخلا آئندہ چھ سے 12 ماہ کے دوران مکمل ہو جائے گا،جرمن حکومت نے ٹرمپ کے اس اقدام کی سنگینی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے "متوقع" قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ یورپ کو اپنے دفاع میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔