• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں مسلسل دوسرے ماہ بھی کمی

کراچی ( ثاقب صغیر )پاکستان میں اپریل 2026کے دوران سیکیورٹی صورتحال میں مسلسل دوسرے ماہ بہتری دیکھنے میں آئی، ماہ اپریل میں عسکریت پسند حملوں اور ان سے متعلق جانی نقصانات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق اپریل میں عسکریت پسندوں کے 85 تصدیق شدہ حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ مارچ میں یہ تعداد 146 تھی ۔ان حملوں میں 42 فیصد کمی واقع ہوئی۔ عسکریت پسند حملوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتیں بھی مارچ کے 106 سے کم ہو کر اپریل میں 60 رہ گئیں جبکہ مجموعی جنگی ہلاکتوں میں پہلے ہی 35 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق یہ بہتری پاکستان کی جانب سے 26 فروری سے 18 مارچ کے درمیان انسداد پاکستان عسکریت پسند گروہوں اور طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف سرحد پار فوجی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی۔ یہ کارروائیاں جنگ بندی اور بعد ازاں چین کے شہر ارمچی میں ہونے والے مذاکرات پر اختتام پذیر ہوئیں۔پی آئی سی ایس ایس کے مطابق اپریل میں مجموعی جنگی ہلاکتیں جن میں عسکریت پسند حملے اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں دونوں شامل ہیں 291 رہیں۔ان میں سے 224 ہلاکتیں عسکریت پسندوں کی تھیں جو مجموعی تعداد کا 77 فیصد بنتی ہیں۔ باقی ہلاکتوں میں 28 سیکیورٹی اہلکار ،37 شہری اور حکومت نواز امن کمیٹیوں کے دو ارکان شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی اہلکاروں کے جانی نقصانات میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جو مارچ میں 59 سے کم ہو کر اپریل میں 28 رہ گئے ۔ شہری ہلاکتیں تقریباً مستحکم رہیں۔ اپریل میں 37 شہری جاں بحق ہوئے جبکہ مارچ میں یہ تعداد 39 تھی۔زخمیوں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ مجموعی زخمیوں کی تعداد مارچ کے 210 سے کم ہو کر اپریل میں 131 رہ گئی۔ماہ کے دوران ریکارڈ کیے گئے 85 حملوں میں زیادہ تر کم شدت کے واقعات شامل تھے تاہم چند بڑے حملے بھی ہوئے۔ ان میں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں دو خودکش حملے اور بلوچستان کے ضلع چاغی میں نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کی مائننگ فیسلٹی پر ایک بڑا حملہ شامل تھا۔حملوں میں کمی کے باوجود سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رہیں۔ پی آئی سی ایس ایس کے مطابق اپریل میں 224 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ مارچ میں یہ تعداد 228 تھی۔ مجموعی طور پر 2026 کے پہلے چار ماہ کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 988 عسکریت پسند ہلاک کیے۔علاقائی سطح پر خیبر پختونخوا بدستور عسکریت پسند حملوں سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جس کے بعد بلوچستان کا نمبر رہا۔ خیبر پختونخوا کے مرکزی اضلاع میں حملوں کی تعداد مارچ کے 51 سے کم ہو کر اپریل میں 45 رہی جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 34 پر برقرار رہی۔
اہم خبریں سے مزید