• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میاں نواز شریف صاحب کی زیر قیادت مسلم لیگ ن ایک عرصےسے لبرل بننے کیلئے بہت ہاتھ پیر مار رہی ہے۔ اسلامی سوچ رکھنے والے لیگیوں کی اب پارٹی میں کوئی نہیں سنتا۔ میاں صاحب اور مریم صاحبہ کے حوالے سے کہا جاتا ہےکہ اُن کے قریب افراد میں لبرل اور سیکولر سوچ والوں کا اُن پر کافی اثر ہے اسی لیے میاں صاحب اپنی گزشتہ حکومت میں پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کی بجائے لبرل اور پروگریسو بنانے کی بات کرتے تھے۔ لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ کا بھی یہی معاملہ ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات سے بخوبی واقف ہیں لیکن لبرل طبقہ کو خوش کرنے کے چکر میں وہ کچھ ایسا بھی کر دیتی ہیں جسکی ضرورت نہیں ہوتی۔ کوئی پوچھے کس کے مشورے پر کئی ایکڑ حکومتی زمین پر فلم سٹی بنانے کا فیصلہ کیاگیا۔ پہلے ہی ہماری فلمیںاور ڈرامے معاشرےمیںبے ہودگی، فحاشی و عریانی پھیلانے میں بہت آگے نکل چکے ہیں اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ معاشرہ کو بے ہودگی، بے حیائی سے آلودہ کرنے کا کوئی بھی عمل اسلامی تعلیمات کےساتھ ساتھ آئین پاکستان کی روح کے بھی خلاف ہے۔ انٹرٹینمنٹ کے نام پر معاشرےکو تباہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ گھٹیا فلمیں، گھٹیا ڈرامے بلکہ اب تو گھٹیا اشتہارات بھی خوب چل رہے ہیں جنہیں روکنے کیلئے کوئی حکومت، کوئی حکومتی ادارہ کچھ نہیں کرتا اور ڈر صرف یہ ہے کہ میڈیا اور لبرل طبقہ پیچھے پڑ جائیگا۔ کجا یہ کہ آرٹ اور کلچر کے نام پر بے حیائی کو پھیلنے سے روکا جائے، مریم صاحبہ نے فلم سٹی بنانے کا اعلان کر دیا۔ مریم صاحبہ ضرور جانتی ہوں گی کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق، جو لوگ معاشرے میں فحاشی، بے حیائی اور عریانی پھیلاتے ہیں، ان کیلئے سخت وعیدیں اور دردناک عذاب کی بات ہے۔ فحاشی پھیلانا شیطان کے منصوبوں کو آگے بڑھانا ہے، جو معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کو تباہ کرتا ہے۔ مریم صاحبہ ذرا آئین کا آرٹیکل 31 بھی پڑھ لیں جو اسلامی طریقہ زندگی کے بارے میں ہے اور جو ریاست اور ریاست کے ہر ادارے کو یہ ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو انفرادی و اجتماعی طور پر قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنےکیلئے ماحول فراہم کریں۔ چاہے ہمارا دین ہو یا آئین، حکومتوں کی بنیادی ذمہ دادی اسلامی نظام کے نفاذ کی ہے۔ اس کے علاوہ بھی حکومتی پیسہ کہیںلگانا ہے تو اچھے کاموں میں لگائیں۔ تعلیم، صحت اور دوسری بنیادی سہولتوں پر توجہ دیں۔ فلم سٹی سے کہیں زیادہ اہم کام معاشرےکی اصلاح کا ہے جس کیلئے اسکول، کالج کیساتھ ساتھ دوسرے ذرائع استعمال کر کے تربیت اور کردار سازی کا نظام لاگو کیا جائے تاکہ معاشرہ اجتماعی طور پر بہتر ہو سکے اور وہ اسلامی ماحول قائم کیا جا سکے جس کا وعدہ آئین پاکستان کرتا ہے۔

تازہ ترین