کشمیر کونسل ای یو کے چیئرمین علی رضا سید نے آزاد کشمیر کے بگڑتے ہوئے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ مسائل کو تشدد کے بجائے مذاکرات کے ذریعے پُرامن طریقے سے حل کریں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے آزاد کشمیر میں احتجاج کے دوران جانی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ کسی بھی صورت تشدد مسائل کا حل نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بات چیت ہی واحد راستہ ہے، مسائل کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر لا کر پُرامن حل تلاش کیا جائے، مزید خون خرابہ ہرگز کشمیری عوام کے مفاد میں نہیں کیونکہ تشدد و خونریزی کشمیریوں کی وحدت اور کشمیر کاز کو بھی کمزور کر رہی ہے۔
علی رضا سید نے یہ واضح کیا کہ تمام کشمیری عوام بشمول اوورسیز کشمیری ہرگز پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ وہ پاکستان سے دل و جان سے پیار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا ایک اہم مرکز اور بنیادی کیمپ ہے اور اگر جموں و کشمیر کے اس آزاد حصے کے حالات مزید خراب ہوئے تو بھارت اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچے گا۔
علی رضا سید نے کہا کہ ہم نے اس سے پہلے بھی دیکھا ہے کہ بھارت جو کشمیریوں کا دشمن ہے، ہمیشہ سے کشمیر میں بدامنی اور انتشار کو فروغ دیتا رہا ہے، وہ کئی دہائیوں سے اس تلاش میں رہا ہے کہ وہ کس طرح آزاد کشمیر کے لوگوں میں پھوٹ ڈالے لیکن ابھی تک وہ اس سازش میں کامیاب نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں بھارت کی آنکھیں ایک بار پھر اس طرف لگی ہوں گی کہ وہ کس طرح کشمیری عوام کی صفوں میں شگاف ڈال کر اپنا مقصد حاصل کرے، آزاد کشمیر کے خراب حالات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام پر اپنے ظلم و ستم پر آسانی سے پردہ ڈال سکتا ہے اور اس طرح وہ دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے ہٹانے کی کوشش کرے گا۔
علی رضا سید نے اوورسیز کشمیریوں کی آزاد کشمیر کے حالات پر تشویش کے بارے میں کہا کہ آزاد کشمیر کی صورتِ حال پر اووورسیز کشمیریوں کی تشویش فطری امر ہے، اوورسیز کشمیریوں کی جڑیں آزاد کشمیر میں ہیں اور ان کے خاندان و عزیز و اقارب وہاں ہیں، وہ ہرگز غیرجانبدار اور بے خبر نہیں رہ سکتے، تمام خطوں کے کشمیریوں کی طرح اوورسیز کشمیری بھی پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور وہ ہرگز پاکستان کے مفادات کے خلاف اقدام نہیں کرسکتے۔
چیئرمین کشمیر کونسل ای یو نے کہا کہ میں آزاد کشمیر حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر تمام جماعتوں، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو اعتماد میں لے کر پُرامن طریقے سے مسئلہ حل کرے اور احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کا سنجیدگی سے جائزہ لے کر جائز مطالبات کو پورا کرے۔