کراچی (اسٹاف رپورٹر) نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ گل پلازہ سانحہ کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے ہائی کورٹ کے کمیشن کی رپورٹ کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے تحقیقاتی رپورٹ کو خفیہ رکھنے سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں، گل پلازہ آتشزدگی اور قیمتی انسانی ومالی نقصان بہت بڑا سانحہ ہے، مجرمانہ غفلت کے مرتکب اور کوتاہی کے ذمہ داران کا تعین کیا جانا ضروری ہے،عوام جاننا چاہتے ہیں کہ کمیشن نے اس سلسلے میں کیا اقدامات تجویز کیے ہیں اور کمیشن کے تجویز کردہ اقدامات پر حکومت سندھ نے کتنا عمل کیا ہے،سیف الدین ایڈوکیٹ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس آغا فیصل نے متعلقہ اداروں کے افسران کے دوران کارروائی بیانات قلمبند اور اہم سوالات بھی کیے تھے اورتمام کارروائی کے بعد جسٹس آغا فیصل پر مشتمل کمیشن نے بند لفافے میں رپورٹ حکومت سندھ کے حوالے کر دی تھی جسے حکومت خاموشی سے دبا کر بیٹھ گئی، اتنے بڑے سانحے کے بعد کراچی کے شہری یہ جاننا چاہتے ہیں اس پورے دوران آتشزدگی کن اداروں کی مجرمانہ غفلت تھی اور کن افسران نے کو تاہی کا مظاہرہ کیا۔