چارسدہ، پشاور(نمائندگان جنگ)چار سدہ میں فتنہ الخوارج کا بزدلانہ حملہ، دہشتگردوں کی فائرنگ سے ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس شہید ہوگئے، حملے میں انکے دو محافظ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے، مولانا ادریس ترنگزئی میں اپنے گھر سے درس حدیث کیلئے جامعہ نعمانیہ اتمانزئی جا رہے تھے، موٹر سائیکل سوار دہشتگردوں نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا، پولیس نے واقعے کو ٹارگٹ کلنگ قرار دے دیا، وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے، وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے، شہید کا تعلق جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ) سے تھا، جے یو آئی نے تین روزہ سوگ اور صوبے بھر میں احتجاج کا اعلان کردیا ہے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے معروف جید عالم دین وسابق ایم پی اے شیخ الحدیث مولانا محمدادریس کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی ہے،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی چارسدہ پہنچے اور فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والے ممتاز عالم دین مولانا محمد ادریس کے نماز جنازہ کے موقع پر شریک رہے، شہید کو لاکھوں عقیدت مندوں کی موجودگی میں آہوں اور سسکیوں میں سپرد خاک کردیا گیا ، دوسری جانب چارسدہ کے معروف عالم دین مولانا محمد ادریس شہید کے ہائی پروفائل قتل کیس کی نگرانی و تحقیقات کے لیے 3رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مولانا محمد ادریس منگل کی صبح ترنگزئی میں اپنے گھر سے درس حدیث کیلئے جامعہ نعمانیہ اتمانزئی جا رہے تھے ،اتمانزئی بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل سواردہشتگردوں نے انکی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر شہید ہو گئے ،ترجمان خیبر پختونخوا پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے پیشرفت کی ہے اور ملزمان کی تصاویر حاصل کی گئی ہیں جن کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔