• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اب کے مئی اپنی گرمی دکھا رہا ہے۔ اسماعیل میرٹھی نے کہا تھا۔ مئی کا آن پہنچا ہے مہینہ بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینہ ۔مگر کراچی میں مئی میں ہی گل کھلتے ہیں۔ہم نے لکھا تھا ۔مئی جب آنے والا ہو/ گلی کوچوں میں حدت ہو/ ہوا رک رک کے چلتی ہو/ گھروں ذہنوں دلوں پر حبس غالب ہو/ گھروں میں بند خوشبوئیں ہوا کے گیت سننے ساحلوں پر جا پہنچتی ہیں/ حسیں چہروں کے درشن سے ہمیشہ عمر بڑھتی ہے/ کلفٹن کے مقدر میں تو کتنا حسن لکھا ہے/ تو اس کی عمر بھی صدیوں میں بڑھتی ہے...شہر کنکریٹ کے جنگل بنا دیے گئے ہیں۔ درخت لگانے کے بجائے کاٹے جا رہے ہیں ۔فطرت سے ٹکرانے کے نتائج بہت خطرناک ہوتے ہیں سو وہ ہم اورآپ بھگت رہے ہیں ۔میں 21ویں صدی کا گزشتہ صدیوں سے موازنہ کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ وہ چھاؤں کے ہزاریے تھے۔ اب دہکتی دھوپ کے دن ہیں تپتی ہوئی راہوں پر پھر نا پڑتا ہے۔ بچوں کے امتحان بھی اسی گرمی میں ہو رہے ہیں۔ اپریل 1986ءمیں بے نظیر بھٹو صاحبہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان آئیں تو مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ کراچی تین مئی کو پہنچیں۔شارع فیصل پر نعرے بلند ہو رہے تھے تین مئی...حکومت گئی...مئی کا ہم قافیہ گئی ہی ہے ۔

ہم نے پہلے جھنگ کی گرمیاں دیکھیں۔ ریت ہمیشہ بہت تپتی ہے ذرے نوک شمشیر بن جاتے ہیں۔ پھر ہم نے جیکب آباد، لاڑکانے، دادو کی تپش بھی دیکھی اور اکثریت کو گدلا پانی پیتے پایا۔ ہمیں بھی کہیں کہیں یہی جام نوش کرنے پڑے۔ شاہ لطیف کہتے ہیں۔ان دیکھے اشجار ہیں ہرسو صحرا پربت پیاس دل دہلاتے دشت جبل اور من میں خوف و ہراس آگ اگلتاسورج میرا جھلس رہا ہے ماس وہاں تو آجا پاس جہاں ہوں تنہا ویرانوں میں /سر آبری۔ دوسری داستان .ترجمہ آغا سلیم / یہ آج سے 450 سال پہلے کی دھوپ کا منظر ہے۔ خوش قسمت ہیں ہم موجودہ پاکستان والے جنہیں شاہ لطیف۔ مست توکلی ۔سلطان باہو۔ بلھے شاہ۔ رحمان بابا اور کیسے کیسے صوفیاء کی بلند خیالی اور ندرت عاشقی میسر ہے...سندھی پنجابی بلوچی ہو کہ پشتو خوشبو سب کو آپس میں ملاتی ہے مہکتی اردو ... زبانیں ایک دوسرے کی بہنیں ہیں سہیلیاں ہیں، سوکنیں نہیں ہیں۔ ہر زبان کی اپنی صدیاں ہوتی ہیں۔ ٹرمپ جیسے ڈیل پسند انہیں آپس میں لڑواتے ہیں۔اکادمی ادبیات پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو نے آغاز کیا تھا۔ وہ ایک روشن خیال بصیرت مند رہبر تھے جنہیں پاسبانوں نے بیگانوں کے کہنے پر اپنے لوگوں سے جدا کر دیا۔ وہ ایک مکمل اور کامیاب ریاست کے خد و خال جبین اور رخسار سے آشنا تھے ۔ریاست کو ایک شجر سایہ دار بنانا چاہتے تھے، اس ادارے کو کمال فن اعزاز کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ مجھے بھی دو بار جیوری میں شرکت کا موقع ملا ہے دونوں بار پہلے سے صدیوں پرانی زبانوں کے فن کو قومی زبان اردو کی مرکز غالبیت سے مرعوب ہوتے دیکھا ۔میں خود کو سندھ کا مقروض سمجھتا ہوں ۔ ہمیشہ دکھ ہوتا ہے کہ سندھی پڑھ لیتا ہوں۔ سمجھ لیتا ہوں۔ بول نہیں سکتا۔ لکھ نہیں سکتا۔ قاضی اسد عابد کا احسان مند ہوں کہ وہ برسوں سے میرے کالموں کو ترجمہ کروا کے ۔ روزنامہ عبرت ۔میں چھاپتے ہیں سندھی قارئین تک میری محسوسات براہ راست پہنچا دیتے ہیں۔ اب سینئر صحافی ایڈیٹر شیر محمد کھاوڑ بھی اپنے روزنامہ۔ اپیل ۔میں یہ کرم فرما رہے ہیں۔اس کرم فرمائی سے میں سندھی پڑھنے والوں کیلئے اجنبی نہیں ہوں بلکہ فیس بک پر سندھی میں کمنٹ زیادہ آتے ہیں ۔میں پہلی بار انڈیا گیا۔ ایک اہم ادارے بک ٹرسٹ آف انڈیا کا دورہ بھی کیا۔ بک ٹرسٹ والے انڈیا کی اس وقت کی 21 زبانوں کے افسانوں، تنقیدی مضامین اور شاعری کا انتخاب ہر سال شائع کرتے تھے اور اس طرح کہ ہر زبان کا ہر دوسری زبان میں انتخاب کیا جاتا تھا ۔اس طرح سارے انڈیا کے ادبی ذوق رکھنے والے اپنے ملک کی ہر زبان کے اعلیٰ نثری اور شعری ادب سے اپنی زبان میں ہر سال واقف ہو جاتے تھے ۔ہم نے پاکستان میں بھی اس روایت کی طرف بار بار توجہ دلائی لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ادبیات والے اپنے رسالے میں تو دوسری زبانوں کے ترجمے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اس طرح سال بھر کا انتخاب شائع نہیں ہوتا اس طرح اردو اور پاکستانی زبانیں پڑھنے والوں میں جو فاصلہ ہے وہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو سمیت ہر زبان میں بہت اعلیٰ آفاقی ادب تخلیق ہو رہا ہے ۔جس طرح اس وقت علاقائی سیاست مرکزی سیاست پر غالب ہے۔ اسی طرح پاکستانی زبانوں میں افسانہ، ناول، تنقید، شاعری قومی زبان اردو سے کہیں زیادہ معیاری تخلیق ہو رہی ہے ۔میں اردو زبان میںلکھتا ہوں لیکن مجھے کہنے دیجیے کہ اردو ان سب زبانوں کے بعد وجود میں آئی ہے، سندھی آٹھویں صدی عیسوی سے بلوچی پانچ ہزارسال سے پشتو 25 سو سال سے ہند کو 5500 سال سے پنجابی 5 ہزار سال سے سرائیکی 45 سو سال سے، بلتی کشمیری آٹھویں صدی عیسوی سے کسی نہ کسی لہجے میں موجود ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اردو سب سمجھتے ہیں پڑھتے ہیں ۔اس لئے اسے قومی زبان کا درجہ اور رابطے کا موقع ملا ہے۔ پاکستانی زبانوں کے ادیب بھی اردو میں لکھنا فخر محسوس کرتے ہیں۔ میری استدعا یہ رہی ہے کہ اکادمی ادبیات پاکستان ہر سال اردو سمیت ساری زبانوں میں قلمبند ہونے والے ادب کا انتخاب دوسری ہر زبان میں ترجمہ کرکے شائع کرے۔ اس طرح ادبی ذوق رکھنے والے پاکستانی قارئین جو پاکستان میں بھی ہیں اور سمندر پار ملکوں میں بھی ۔وہ اپنی ہر شیریں زبان کی تازہ ترین ادبی تخلیقات کے معیار سے آگاہ رہ سکیں گے۔ جیوری کے ارکان بھی ہر زبان کے ادب کی رفتار سےآشنا ہونگے۔پھر پاکستان میں کمالِ فن ایوارڈ کا فیصلہ کرنے میں کسی مشکل یا جھجک کا سامنا نہیں کرنا پڑئیگا۔یہ ویسے بھی قومی یک جہتی اور پاکستان کی پرانی اور نئی صدیوں کوآپس میں ملانے کی ایک مثبت کوشش ہوگی۔

تازہ ترین