• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مردوں اور خواتین کیلئے جم (Gyms ) میں علیحدہ اوقات کار اور اس پر سختی سے عمل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کے ذریعے میں نے وزیراعظم شہباز شریف سے درخواست کیا کی کہ لبرل طبقہ سے تعلق رکھنے والا ایک گروہ مجھےگِدھوں کی طرح نوچنے کیلئے آ گیا۔ میں نے بڑے مہذب انداز میں اپنی درخواست وزیراعظم کے سامنے رکھی تھی۔ لیکن ہمارے درمیان موجودکچھ" آدھے تیتر آدھے بٹیر " اس انداز میں میرے پیچھے پڑ گئے کہ نہ کوئی تمیز نہ تہذیب کا اُنہیں خیال رہا۔ میں نے دین کی تعلیمات کی روشنی میں اور اپنی معاشرتی اقدار کے تناظر میں یہ مسئلہ اس لیے اُٹھایا تاکہ معاشرے میں مزید خرابیاں پیدا نہ ہوں۔ لیکن اس طبقے نے جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا کہتا ہے مجھ سے تہذیب کے دائرہ میں رہتے ہوے اختلاف کرنے کی بجائے مجھ پر لعن طعن شروع کر دی ، اس طرح بدزبانی اور بدتہذیبی پر اتر آئے جس سے اُن کے اندر کی غلاظت باہر نکلنے لگی۔ اس بدتہذیبی میں پنجاب سے ایک ذمہ دار خاتون بھی شامل تھی جنہوں نے مجھے جو کہا وہ کہا لیکن سوشل میڈیا میں اپنے ایک پیغام میں اطمینان کا اظہار کیا کہ انصار عباسی نے پی ایس ایل کی اختتامی تقریب نہیں دیکھی۔ جس پر کسی نے ان خاتون کے حوالے سے یہ بہت خوب لکھا کہ کسی فرد یا افراد سے ڈرنے والو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔ ایک سابق ایم این اے جو پاکستان میں شراب کی کھلے عام فروخت اور اس کے استعمال کے حامی ہیں اُنہوں نے مجھے افغانستان جانے کا مشورہ دے دیا۔ آپ المیہ دیکھیں کہ ہماری اسمبلیوں میں کیسے کیسے لوگ آ جاتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس ملک کا آئین تو اسلام کے نفاذ کی بات کرتا ہے لیکن اسی آئین کا حلف اُٹھا کر اسمبلیوں میں آنے والے اور اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے کھلے عام اسلامی احکامات کے خلاف بات کرتے ہیں اور پھر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اگر آئین کو دیکھا جائے تو ایسے افراد نہ اسمبلیوں میں داخل ہونے کے اہل ہیں نہ ہی انہیں حکومت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں تو کسی کو اس بات کی پروا ہی نہیں کہ اسلام کیا کہتا ہے، آئین پاکستان کیا تقاضا کرتا ہے۔ یہاں تو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کے ممبران کی اہلیت کے متعلق آئین کی اسلامی شقوں پر ہی عمل نہیں کیا جاتا کیوں کہ اگر ان پر عمل کیا جائے گا تو ہماری آدھی سے زیادہ اسمبلیاںہی خالی ہو جائیں گی۔ بہرحال ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ اسلام کے مطابق معاشرےکا قیام ہم سب کی دینی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ کوئی جو مرضی کرے، میرا جتنا چاہیں مذاق اُڑا لیں میں تو اپنے رب کا لاکھ لاکھ بار شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے اسلام کی بات کرنے کی توفیق دی۔ میں نہ تو لعن طعن کا جواب لعن طعن سے دوں گا اور نہ ہی کسی سے بدتمیزی اور بدتہذیبی کروں گا کیوں کہ میرا دین مجھ سے یہی تقاضا کرتا ہے۔ مجھ سمیت سب کی ہدایت، حق بات کرنے اور اس میں اسقامت کیلئے مجھے ہمیشہ آپ کی دعاوں کی ضرورت رہے گی۔

تازہ ترین