اس دنیا میں جو بھی شخص دھاتوں اور پیٹرولیم انرجی کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو، اس کیلئےیہ سمجھنا مشکل نہیں کہ لینڈ کروزر کا انجن موٹر سائیکل جیسے چھوٹے انجن سے ارتقا کر کے بنا ہے ۔ بنیادی سٹرکچر ایک ہی ہے ۔ یہ بھی سامنے کی بات ہے کہ موٹر سائیکل کا انجن پورے کا پورا لینڈ کروزر میں موجود ہے لیکن لینڈ کروزر کا انجن پورے کا پورا موٹر سائیکل میں موجود نہیں ۔بنیادی اصول وہی ہے ، فرق ٹیکنالوجی اور سائز کا ہے ۔
اسی طرح جو لوگ فاسلز کو سمجھتے ہیں ، ان کیلئے کرہ ء ارض پہ بکھری حیات ایک کھلی کہانی ہے ۔ انسان کے دماغ کو آپ لینڈ کروزر کا انجن سمجھ لیں ، جس میں سب چھوٹے جانوروں کے دماغ موجود ہیں ۔ یہ جو جانداروں کو انہوں نے ریپٹائل، میمل، پرائمیٹ اور گریٹ ایپ میں تقسیم کیا ہے ، یہ کوئی ہوائی تقسیم نہیں ۔ بغیر حتمی ثبوت کے ایک سائنسدان اپنے باپ کی بھی نہیں مانتا ، کجا یہ کہ پوری سائنسی دنیا ایک نکتے پرمتفق ہو جائے کہ ارتقا کی داستان گھڑ کے بنی نوع انسان کو پاگل بنانا ہے ۔ سائنسدان بھی متحارب ممالک سے تعلق رکھتے ہیں ۔ روس اور چین کے سائنسدان عشروں چاند پہ اترنے کی جنگ لڑتے رہے ۔ چاند پہ اترنے کی امریکی جیت اگر ایک جھوٹ تھی تو سویت یونین کے پاس سنہرا موقع تھا کہ ثبوت پیش کر کے امریکہ کو دنیا میں بے عزت کیا جاتا۔ سویت یونین نے کبھی باضابطہ طور پر یہ موقف اختیار نہیں کیا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ امریکہ حقیقتاًجیت چکا تھا ۔
فاسلز کی سائنس کی وجہ سے زندگی کی کہانی سائنس دانوں کے سامنے ایک کھلی کتاب کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جانداروں میں دماغ کا ارتقا آہستہ آہستہ ہوا ہے۔ جیسے آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی بہتر ہوتی ہے ۔ گاڑیوں یا کمپیوٹرز کے اگلے ماڈلز جب مارکیٹ میں آتے ہیں تو وہ پہلے والوں سے کہیں پیچیدہ ہوتے ہیں۔ کبھی بڑے بڑے اداروں میں پی سی کمپیوٹر ہونا ایک اعزاز تھا۔ آج کمپنیاں سپر کمپیوٹرز سے ٹیکنالوجی کی جنگ لڑ رہی ہیں ۔ اسی طرح فاسلز کے ریکارڈ سے سائنسدان بخوبی جانتے ہیں کہ ریڑھ کی ہڈی والے جانور کب پیدا ہونا شروع ہوئے۔ کب وہ انسان پیدا ہوا جو دو ٹانگوں پہ سیدھا کھڑا ہو کر چلتا تھا۔ انسانی کاسہ ء سر کی ساخت میں کب کیا تبدیلی رونما ہوئی۔ فاسلز کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ آگ کب استعمال ہونا شروع ہوئی ۔ زندگی پانی میں پیدا ہوئی اور پانی ہی میں سانس لیتی رہی ۔پہلی بار کب پھیپھڑوں کا ارتقا شروع ہوا۔
یہ سب چیزیں تو مگر پڑھنے سے ہی سے معلوم ہوتی ہیں ۔ برصغیر میں جو لوگ ارتقا کو سچ مانتے ہیں ، وہ ان الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرتے ہیں " انسان بندر کی اولاد ہے " دوسرا گروہ پھر ان پر لعنتیں بھیجتا ہے کہ تمہارے آبایقیناً بندر کی اولاد ہوں گے ، ہمارے نہیں ۔ ڈارون بیچارے کے ساتھ جو کچھ برصغیر میں ہوا وہ اگر اس کے علم میں ہوتا تووہ نظریہ ء ارتقا اپنے سینے میں لیے مر جاتا ۔
ڈارون نے کہا یہ تھا کہ لاکھوں سال پیچھے جا کر مختلف جانداروں کے آبائو اجداد مشترک ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اسے لاسٹ کامن اینسیسٹر کہتے ہیں ۔ یہ اسی طرح ہے، جس طرح ایک دادا کی اولاد درجنوں لڑکوں اور لڑکیوں تک پھیل جاتی ہے ۔ڈی این اے کے علاوہ لاسٹ کامن اینسسٹر کا ایک عام ثبوت یہ بھی ہے کہ مختلف ملتے جلتے جانور آج بھی آپس میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مثلاً گھوڑا اور گدھا اولاد پیدا کر سکتے ہیں ۔ ٹائیگر اور افریقن شیر اولاد پیدا کر سکتے ہیں ۔اگر ان کے آبائواجداد مشترک نہ ہوتے ، اگر ان کا ڈی این اے ایک دوسرے سے نہ نکلا ہوتا تو یہ کرشمہ کیونکر رونما ہوتا۔
عام لوگ یہ جانتے ہی نہیں کہ جینز کی کہانی کیا ہے اور سائنسدان کیسے جینز کو سیکھ رہے ہیں ۔ وہ جینز جو پرندوں میں چونچ بناتے ہیں ، انہیں جب ایک مرغی کے انڈے میں منقطع کر دیا گیا تو جو چوزے پیدا ہوئے، وہ چونچ کی بجائے ڈائنا سار جیسے جبڑوں کے مالک تھے ۔ انہیں ڈائنو چک کا نام دیا گیا ۔ لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ موجودہ انسانوں سے زیادہ بڑے سر والا ایک انسان تاریخ میں گزرا ہے ۔ آج سے صرف تیس ہزار سال پہلے تک وہ زندہ تھا۔یہی آدمؑ کے زمین پہ نزول کا وقت تھا۔نینڈرتھل نامی یہ انسان یورپ میں زندگی بسر کرتا رہا۔ اس کا ڈی این اے مکمل تفصیلات کے ساتھ شائع ہو چکا ہے ۔
فاسلز کا ریکارڈ صاف بتاتا ہے کہ ریپٹائلز 32 کروڑ سال پہلے پیدا ہوئے ۔ بارہ کروڑ سال بعد انہی ریپٹائلز میں سے میملز پیدا ہوئے ، جن میں میمری گلینڈ موجود تھا اور مائیں اپنے بچوںکو دودھ پلاتی تھیں ۔ انسانوں میں بھی مائیں میملز کی طرح دودھ پلاتی ہیں تو یہ کوئی اتفاق نہیں ۔ سب جاندار ایک دوسرے سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ڈائنا سارز کی ہلاکت کے بعد پرائمیٹس منظرِ عام پر آئے ۔آج سے دو کروڑ سا ل پہلے گریٹ ایپس پیدا ہوئے۔ انسان کا شمار گریٹ ایپس میں ہوتا ہے ۔ اس کا خون، آنتیں، دماغ کا بیشتر حصہ ، دل ، گردے اور پھیپھڑے ، تقریباً سبھی کچھ وہی ہے ۔
پھر بھی کچھ فرق ہے اور وہ فرق کیا ہے ؟ یہ کہ آدمؑ کی روح کی شکل میں جو تجلی اس پہ نازل ہوئی ، وہ اسے تمام مخلوقات سے ماورا کر دیتی ہے ۔ پھر بھی بھوک مٹانے سے لے کر اولاد پیدا کرنے تک، انسان وہی ہے ، جو دوسری زمینی مخلوقات ہیں۔تمام مخلوقات پیچھے جاتی رہیں تو ایک واحد خلیے تک پہنچ جاتی ہیں، جو سب کا باپ تھا۔
فاسلز کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان کو ئی ایک نہیں تھا بلکہ اکیس مختلف قسم کی ایسی سپیشیز زمین پہ اپنا وقت گزار چکی ہیں ، جو دو ٹانگوں پہ سیدھی کھڑی ہو کر چلتی تھیں ۔ فرق ان میں اور ہم میں یہ ہے کہ ہم پر شریعت نازل ہونا تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ہم نے لباس پہنا ، آسمانوں میں پرواز کی ، خلا میں دوربینیں بھیجیں ۔ پھر بھی جب ہم انسان نیتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح خون بہاتے ہیں تو خدا ایسے انسانوں کو سب جانوروں سے بدتر جانور کہتاہے ۔