• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کیلئے پُرعزم اور چوکس ہیں، وزیر اعظم شہباز شریف

اسلام آباد( رانا غلام قادر)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کیلئے پُرعزم اور چوکس ہیں ا س امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور ہمہ جہت جواب دیا جائے گا۔پاکستان “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے مکمل خاتمے اور دہشت گردی کے ناسور کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے بھی ثابت قدمی سے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے ان خیا لات کا اظہار گزشتہ روز معرکۂ حق کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات اور احسانات پر اُس کے حضور سجدۂ شکر بجا لانے کا دن ہے۔ آج ہم اس عزم، جرات اور استقامت کو یاد کر رہے ہیں جس کا مظاہرہ پاکستان نے آزمائش کی گھڑی میں کیا اور دشمن کو عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔پوری قوم اپنے شہداء، اُن کے اہلِ خانہ اور ان غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جو فولادی دیوار بن کر اپنے وطن کے دفاع کے لیے ڈٹ گئے۔ بری، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر ہماری افواج کے مربوط، منظم اور ہم آہنگ ردِعمل نے پاکستان کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت کے طور پر منوایا۔معرکۂ حق اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ پاکستانی قوم امن پسند ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر، باوقار، ثابت قدم اور غیرت مند قوم ہے، جسے نہ تو مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی جارحیت کے ذریعے جھکایا جا سکتا ہے۔ معرکۂ حق تاریخ میں ایک ایسے عظیم کارنامے کے طور پر ثبت ہو چکا ہے جس میں دشمن کی بلا اشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان نے فیصلہ کن برتری حاصل کی۔ دشمن کو حقیقت کا ایسا سبق دیا گیا جس نے اُس کے ناقابلِ شکست ہونے کے زعم کو خاک میں ملا دیا۔ہم چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اُن کی جراتمندانہ اور دلیرانہ قیادت پر بھرپور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہم ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور ایڈمرل نوید اشرف کو بھی اُن کی مدبرانہ حکمتِ عملی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ہم اپنی بہادر مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستانی قوم کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے تناظر میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔پاکستان نے ایک جانب اپنے امن کے عزم کو واضح کیا، تو دوسری جانب دفاعی توازن کو بحال کرتے ہوئے اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور تحفظ یقینی بنایا۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کو کمزور کرنے یا اس کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری، مؤثر اور ہمہ جہت جواب دیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید