کراچی (اسٹاف رپورٹر) داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں حکومت پاکستان کی قومی مہم ’’معرکہ حق‘‘ کی پہلی سالگرہ کا جشن نہایت جوش و خروش، حب الوطنی اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا ۔ ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹس افیئرز اینڈ سیکورٹی کے زیر اہتمام جامعہ میں منعقدہ ’’پرچم کشائی اور شاندار جشن ‘‘ کی تقریب میں گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے بطور مہمان خصوصی جبکہ سابق گورنر سندھ جنرل (ر) معین الدین حیدر نے بطور مہمان اعزاز شرکت کی۔ اس موقع پر اساتذہ، افسران، طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے بھرپور انداز میں شرکت کرکے افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں سے والہانہ یکجہتی کا اظہار کیا۔تقریب کا آغاز قومی پرچم کشائی، تلاوت کلامِ پاک اور قومی ترانے سے ہوا جبکہ پورا کیمپس پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تقریب میں طلبہ کی جانب سے ’’معرکہ حق‘‘ کی ٹائم لائن پر مبنی جدید اے آئی ویڈیو پریزنٹیشن پیش کی گئی جس میں پاکستان کے قومی مؤقف، سفارتی کامیابیوں اور امن کے فروغ کیلئے کی گئی کوششوں کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا گیا۔ تقریب کے دوران عسکری مشاعرہ، ملی نغموں کی شاندار پرفارمنس اور تقریری مقابلوں نے شرکاء کا جوش مزید بڑھا دیا۔ طلبہ نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور ولولہ انگیز انداز سے حاضرین سے بھرپور داد وصول کی جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔گورنر سندھ سید نہال ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی نوجوان ملک کا اصل سرمایہ ہیں اور داؤد یونیورسٹی جیسے ادارے قومی بیانیے، اتحاد اور ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’معرکہ حق‘‘ پاکستان کے وقار، امن اور سچائی کی علامت بن چکا ہے جبکہ پاکستانی قوم نے ہر محاذ پر اتحاد و یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔انہوں نے طلبہ کی پیش کردہ اے آئی ویڈیو کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’میں پروگرام دیکھ کر کھو سا گیا تھا، مجھے فخر محسوس ہوا۔ ویڈیو میں بچے کا یہ سوال کہ ’بابا ہم جیت گئے؟ اور اس پر یہ جواب کہ ہاں ہم جنگ جیت گئے ، دراصل پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی تھا۔انہوں نے مزیدکہا کہ مجھے نوجوانوں میں آکر بہت اچھا لگتا ہے ، داؤد یونیورسٹی کا پروگرام دیکھ کر مجھے طلباء پر فخر ہوا کیونکہ داؤد یونیورسٹی نے معرکہ حق کا سب سے بہترین پروگرام منعقد کیا، ساری جنگ جیتنے کے باوجود ہمارے پاس معاشی قوت بننے کی صلاحیت نہیں، جب نوجوان پڑھ لکھ لیتے ہیں تو پاکستان چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔