• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ، 20 سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سزائیں کالعدم

اسلام آباد( رپورٹ:رانا مسعود حسین) سپریم کورٹ نے20سال پرانے قتل کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائیکورٹ کی سزائیں کالعدم قرار دیکرملزم کو فوری طور پر بری کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔ عدالت عظمی نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلہ کہاہے کہ ایک بے گناہ کو سزا دینے سے 10گنہگاروں کو بری کر دینا زیادہ بہتر ہے،محض مفرور ہونے کی بنیاد پر کسی کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اگر کوئی شخص پولیس کے ہراساں کرنے یا گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو تو اسے جرم کا اعتراف نہیں سمجھا جائے گا،یاد رہے کہ ملزم محمد اقبال کیخلاف29اپریل2006کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹائو ن میں 2افراد کے قتل کےالزام میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں ٹرائل کورٹ نے اسے عمر قید کی سزا سنائی ، جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے بھی یہ سزا برقرار رکھی اور قراردیا کہ وقوعہ کے 14 سال بعد ملزم کی گرفتاری اس کے قصوروار ہونے کا ثبوت ہے۔سپریم کورٹ نے 20 سال پرانے قتل کے اس کیس میں ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کی سزائیں کالعدم کردیں ۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 8 صفحات پر مشتمل اپنے تحریر ی فیصلہ میں آبزرویشن دی کہ ملزم سے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342کے بیان میں اس کے مفرورہونے سے متعلق سوال ہی نہیں پوچھا گیا، قانون کے مطابق جو شہادت ملزم کے سامنے نہ رکھی جائے، وہ اس کے خلاف استعمال نہیں ہو سکتی ۔

اہم خبریں سے مزید