لاہور ( محمد صابر اعوان سے ) پاکستان سمیت دنیا بھر میں 12 مئی کو عالمی یومِ نرسز اس عزم کے ساتھ منایا جائے گا کہ مریضوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں نرسوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ درپیش مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔جبکہ پاکستان میں صحت کا شعبہ نرسوں کی تاریخ کی بدترین کمی کا سامنا کر رہا ہے، جہاں عالمی معیار کے مطابق 2025-26 تک کم از کم 9 سے 11 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، تاہم ملک میں رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد اس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ مختلف طبی رپورٹس کے مطابق شعبہ صحت کو مجموعی طور پر 15 لاکھ سے زائد نرسنگ اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ موجودہ نرسیں طویل ڈیوٹی اوقات، شدید کام کے دباؤ اور محدود سہولیات کے باوجود مریضوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔پاکستان میں اس وقت نرسوں کی شدید کمی صحت کے نظام کے لیے ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے، جہاں بڑھتی آبادی، اسپتالوں پر دباؤ اور طبی سہولیات کی محدود دستیابی کے باعث تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کو موجودہ آبادی اور عالمی طبی معیار کے تحت کم از کم 9 سے 11 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے، جبکہ رجسٹرڈ نرسوں کی تعداد اس کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق 2020 تک ملک بھر میں صرف ایک لاکھ 16 ہزار 659 نرسیں رجسٹرڈ تھیں، جبکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہزاروں نرسیں بہتر مستقبل اور مراعات کے حصول کیلئے بیرون ملک منتقل ہو چکی ہیں۔ شعبہ صحت کو مجموعی طور پر تقریباً 15 لاکھ سے زائد نرسنگ اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے، جس کے باعث موجودہ نرسیں شدید دباؤ اور طویل ڈیوٹی اوقات میں خدمات انجام دینے پر مجبور ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق پاکستان میں اس وقت 162 نرسنگ ادارے کام کر رہے ہیں، تاہم بڑھتی ہوئی ضروریات کے مقابلے میں یہ تعداد ناکافی تصور کی جاتی ہے۔ اسپتالوں میں مریضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث نرسوں کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں اوسطاً 100مریضوں کیلئے صرف ایک نرس دستیاب ہے ۔