تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) برطانیہ نے ایران سے وابستہ ایک درجن افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیںجبکہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی ختم کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیزفائر اس وقت آخری سانسیں لے رہی ہے اور وینٹی لیٹر پر ہے ‘معاہدے کیلئے مجھ پر کوئی دبائو نہیں‘ کردوں نے بھی مجھے بہت مایوس کیاہے‘ایرانی قیادت بے ایمان ہے‘ اپنی باتوں سے مکرجاتی ہے‘ ایران پر مکمل فتح حاصل کریں گے ‘تجارتی جہازوں کو ہرمزمیں بحری تحفظ فراہم کرنے کے لیے امریکی آپریشن دوبارہ شروع کرنے پر غورکررہا ہوں‘ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے خبردارکیاہے کہ اگر حملہ ہواتوہماری مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا جواب دینے اور سبق سکھانے کے لیے تیار ہیں‘غلط حکمت عملی اور غلط فیصلے ہمیشہ برے نتائج کا باعث بنتے ہیں‘ دنیا اب اس بات کو سمجھ چکی ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ معاہدہ کرتے وقت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے تحفظات اور ایران کے قومی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیاہے کہ کشیدگی میں کمی اور مصالحت کیلئے مختلف ممالک نے تہران سے رابطہ کیا ہے لیکن امریکا اور ایران کے درمیان باضابطہ ثالث صرف پاکستان ہے جو اپنی کوششیں کر رہا ہے‘ہم نے کسی ر عایت کا مطالبہ نہیں کیا‘اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں ‘ ہمارے مطالبات معقول اور ذمہ دارانہ ہیں جبکہ چین میں ایران کے سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازم ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کی ضمانت کے ساتھ ہو اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے ۔ ادھرایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے24گھنٹوں کے دوران دوسری مرتبہ اپنے سعودی ہم منصب فیصل بن فرحان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے’’ارنا‘‘کے مطابق بات چیت میں علاقائی پیشرفت اورامریکا ایران سفارتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر تیل محسن پاکنزاد نے کہا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران کی برآمدات کا عمل سازگار رہا ہے جبکہ ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اپنے پیغامات میں رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے متعلق 10 اسٹریٹجک نکات بیان کیے ہیں ۔ ادھرتہران کا کہنا ہے کہ آگویس فانوریوس ون نامی بڑا آئل ٹینکر گزشتہ روز آبنائے ہرمز عبور کرگیا ۔ یہ ٹینکر عراق کا خام تیل لے کر اس وقت خلیج عمان میں ویتنام کی بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے امریکا کی تجاویز پر تہران کی پیشکش کو فضول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی اس وقت انتہائی کمزور ہے ۔ پیرکو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہناتھاکہ تہران نے جو کچرا بھیجا ہے، میں نے تو اس کو پورا پڑھا بھی نہیں کیونکہ میں اپنا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا‘جنگ بندی اس وقت لائف سپورٹ پر ہے۔یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے آپ کا کوئی اپنا لائف سپورٹ پر ہو اور ڈاکٹر آ کر آپ کو بتائے کہ ان کے بچنے کا محض ایک فیصد امکان ہے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا میرے پاس کوئی پلان ہے۔بالکل ہے، میرے پاس بہترین پلان ہے‘ایران کو بہت بری شکست ہوچکی ‘ان کے پاس کچھ فوجی قوت باقی ہے جو شاید انہوںنے جنگ بندی کے دوران دوبارہ حاصل کی ہےلیکن ہم اسے ایک دن میں ختم کر سکتے ہیں۔اگر ان کے پاس جوہری ہتھیار آگئے تو نہ اسرائیل رہے گا نہ مشرق وسطیٰ اور اس کے بعد شاید ان کا اگلا نشانہ یورپ ہو۔ایرانی سوچتے ہیں کہ میں اس سے تھک جاؤں گا یا میں بور ہو جاؤں گا، یا مجھ پر کچھ دباؤ پڑے گا لیکن کوئی دباؤ نہیں ہے‘ہم مکمل فتح حاصل کرنے جا رہے ہیں۔امریکی صدر نے ایرانی قیادت کو بے ایمان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بار بار اپنا ذہن تبدیل کر لیتے ہیں‘بقول ٹرمپ ایران کی مرکزی قیادت انتہائی غیر معقول تھی لیکن وہ اب جا چکی لیکن دوسری سطح ان سے قدرے بہتر ہے جبکہ تیسری سطح کی قیادت میں سے کوئی بھی صدر بننا نہیں چاہتا۔وہ پوچھتے ہیں کہ کون صدر بننا چاہے گا لیکن کوئی ہاتھ نہیں اٹھاتا۔ایرانی قیادت اعتدال پسندوں اور پاگلوں میں بٹی ہوئی ہے‘پاگل لوگ آخر تک لڑنا چاہتے ہیں۔دوسری جانب صدر پزشکیان نےمذاکرات کے لیے تہران کی آمادگی کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ پیرکو جاری بیان کے مطابق پزشکیان کا کہناتھاکہ تہران کو چاہیے کہ میدان جنگ میں حاصل کردہ کامیابی کو سفارت کاری کے ذریعے مکمل کرے۔پزشکیان نے سینئر پولیس کمانڈرز سے ملاقات کے دوران کہا کہ ملک کے سامنے تین راستے موجود ہیں جن میں پہلا وقار کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہونا اور قومی مفادات کا تحفظ کرنا‘دوسرا جنگ اور امن کے درمیان کی صورتحال برقرار رکھنا اور تیسرا جنگ اور مذاکرات دونوں کو بیک وقت جاری رکھنا۔پہلا آپشن ایران کے لیے سب سے بہتر ہے۔علاوہ ازیں گزشتہ روز نیوز کانفرنس کے دوران جنگ کے خاتمے میں قطر کے کردار سے متعلق خبروں پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مختلف ممالک نے ایران سے رابطہ کیا ہے اور کئی علاقائی ممالک کو کشیدگی میں اضافے پر شدید تحفظات ہیں۔ایران کشیدگی میں کمی کے لیے ان تمام ممالک کی کوششوں کی تعریف کرتا ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ ثالث ہے جو اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہےجبکہ امریکا مسلسل غیر معقول اور یکطرفہ مطالبات پر اصرار کر رہا ہے۔