ملتان(سٹاف رپورٹر) نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں مصطفیٰ کمال پاشا لیکچر تھیٹر کمپلیکس سے سیکڑوں پنکھوں کی چوری کے معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں ، اس سلسلہ میں پروفیسر ڈاکٹر مظفر عزیز کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ،جس نے معاملہ کی چھان بین شروع کردی ہے ، اس ضمن میں گزشتہ دنوں انکوائری کمیٹی نے اس معاملہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں پاشا ہال کے انچارج پروفیسر ڈاکٹرخورشید انور،ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر امیر اسد شاہ اورڈائریکٹرسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر زاہد احمد کے ساتھ میٹنگ بھی کی گئی ،جس میں اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ، واقعہ کی رپورٹ شعبہ ایم اینڈ آر کے سب انجینئر (الیکٹریکل)زاہد حسین صدیقی نے وائس چانسلرکو تحریری طور پر کی، جس پر اس معاملہ کی تحقیقات کی ہدایت دی گئی تھی ،انکوائری کمیٹی نے چیف سکیورٹی آفیسر، متعلقہ سب انجینئرز، ڈائریکٹر کیمپس اور کیئر ٹیکر/چوکیدار کو بھی مکمل ریکارڈ سمیت طلب کرلیا ہے ،،یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل بھی ترقیاتی کاموں کے دوران نشتر کے چارسو کے قریب پنکھوں اور ائیرکنڈیشنرز کے پرزہ جات غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا ، جس پر سیکرٹری صحت کو بھی اس معاملہ سے آگاہ کیا گیا تھا ، مگربعدازاں حیران کن طور پر معاملہ کو دبا دیا گیا اور انکوائری کمیٹی بھی نہ بن سکی تھی،جب یہ الزام سامنے آیا تھا ،اس وقت ڈاکٹر کاظم نشتر کے ایم ایس تھے اور اے ایم ایس ایڈمن ڈاکٹر زاہد تھے، اور اب یہ معاملہ جب سامنے آیا ہے ،توڈاکٹر کاظم ان دنوں ایم اینڈ آر کے اے ایم ایس اورڈاکٹرز اہد ڈائریکٹر سٹیبلشمنٹ ہیں۔