کراچی( ثاقب صغیر )شہر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود مسلح افراد کھلے عام آزادانہ اسلحے کا استعمال کر رہے ہیں تاہم انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔متعدد شہری اسلحہ بردار ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہو چکے ہیں۔پولیس چھوٹے جرائم میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر کے اپنی کارکردگی بتانے میں مصروف ہے لیکن اسلحہ بردار ملزمان قانون کی گرفت سے آزاد ہیں ۔پیر کو پریڈی تھانے کی حدود صدر میں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں بھاری اسلحے کا کھلے عام آزادانہ استعمال کیا گیا اور ملزمان کی فائرنگ سے تین بچوں سمیت 4 شہری زخمی بھی ہوئے جس سے شہر میں امن و امان کی مثالی صورتحال کے دعوؤں کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔جدید ہتھیاروں سے لیس مسلح ملزمان کی جانب سے کی گئی فائرنگ سے پورا علاقہ گونج اٹھا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔صدر جیسے مصروف علاقے میں مسلح ملزمان کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کرنے کے واقعہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔واقعہ کے بعد ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی۔پولیس نے بتایا کہ صدر کوئٹہ بس اسٹاپ کے قریب ایک ٹرانسپورٹر کے دفتر کے سامنے جمعہ نامی شخص نے میز لگائی تھی جسے مذکورہ ٹرانسپورٹر والوں نے اسے ٹیبل ہٹانے کا کہا تو جمعہ نامی شخص نے مبینہ طور پر انھیں اسلحہ دکھایا ۔ بعدازاں جس کوچ اڈے کے قریب میز لگائی تھی ان کی جانب سے سفید اور سیاہ رنگ کی ڈبل کیبن ڈالوں میں سوار سیکیورٹی گارڈز کی جانب شدید فائرنگ کی گئی جس کی زد میں آکر 4 افراد فائرنگ زخمی ہوگئے جس میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ مسلح افراد کی جانب سے شدید فائرنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فائرنگ کرنے والوں کو کسی کا ڈر اور خود نہیں تھا۔شہر میں اسلحے کی نمائش کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے نمائشی دعوے آئے روز کیے جاتے ہیں لیکن ملک کے سب سے بڑے شہر کے مصروف ترین علاقے میں مسلح ملزمان کی بھاری ہتھیاروں سے کی گئی فائرنگ نے ان سب دعوئوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔دوسری جانب رات گئے سائوتھ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان جاوید ولد ہمت علی اور نواب خان ولد عبدالصمد کو گرفتار کر کےپریڈی تھانے میں مقدمہ درج کر کر لیا گیا ہے اور مزید ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھا پہ مار کارروائی جاری ہے۔